قومی

جیل کے اصل حقدار نتیش ہیں لالو نہیں: تیجسوی

تیجسوی یادو نے کہا کہ جو چلائے نفرت اور تشدد کے ” تیر“ وہ کیا سمجھے گا بہار کی ”پیڑ“ یعنی تکلیف۔ انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت میں عوام کی عدالت سب سے بڑی ہوتی ہے اور ان کا ہر فیصلہ منظور ہے۔

تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

پٹنہ: بہار میں حزب اقتدار جنتال دل یونائٹیڈ ( جے ڈی یو) اور راشٹریہ جنتادل (آرجے ڈی) کے مابین جاری ” لیٹر وار“ کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اپوزیشن لیڈر تیجسوی پرساد یادو نے آج ایک بار پھر وزیراعلیٰ نتیش کمار پرکھلے خط کے ذریعہ حملہ کیا اور کہا کہ پارٹی سپریمو لالو پرساد یادو کے بجائے وہ (کمار) جیل جانے کے اصلی حقدار ہیں۔

تیجسوی یادو نے مائیکر و بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر نیتیش کمار کے نام سے خط لکھا ہے جس میں ان پر جم کر حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”سچ پریشان ہو سکتا ہے ہار نہیں سکتا“ دیر سویر بہار کے عوام کو انصاف ملے گا اور ان کے حق کی آواز اٹھانے والا بھی جلد ہی ان کے مابین ہوگا۔ اور پھر ہمارے والد ہی عوام کی طرف سے بہار پر ہوئے ایک ایک نا انصافی کا حساب رائے عامہ کے مہاچوروں سے لیں گے ۔ جھوٹ، دھوکے اور موقع پرستی کو اس کی صحیح جگہ یعنی عدالت کے کٹگھرے اور پھر جیل کی سلاخوں میں پہنچائیں گے کیونکہ جیل جانے کے اصلی حقدار آپ ہیں وہ نہیں“۔

اپوزیشن لیڈر نے لکھا کہ ”جمہوری اقدار اور رائے عامہ کی بے عزتی کر کے عوام کی نظروں میں آپ عزت وقار کھو چکے ہیں۔ عوام کے ذریعہ جگہ جگہ مسلسل آپ کی مخالفت یہ ظاہر کرتی ہے کہ آپ عوام کیلئے کتنے غیر مقبول ہو گئے ہیں۔ لیکن میرے لئے آپ ابھی بھی انتہائی مقبول ہیں۔ عوامی غصہ کا عالم تو یہ ہے کہ بکسر کے نندن گاﺅں میں مہا دلتوں نے آپ پرحملہ تک کر دیا جس کی ہم نے سخت مذمت بھی کی۔“

تیجسوی یادو نے کہا کہ ”آپ نے کہا کہ میرے والد چاہے جتنی بھی کوشش کرلیں وہ جیل سے باہر نہیں آسکتے۔ آپ انہیں جیل سے باہر نہیں آنے دیں گے۔ آپ کے خود کوسپریم کورٹ سے بھی اونچا سمجھ کر فیصلہ سنانے کی پیچھے کون سی نئی سازش ہے یہ تو مجھے نہیں پتہ۔ بہار کی ستم ظریفی ہے یہ مجھے پتہ ہے۔ آپ کے دور حکومت کی سب سے بڑی ستم ظریفی ہے کہ غریب، غربا اور محروموں کی آواز اٹھانے والا آج جیل میں بیٹھا ہے اور آپ مظفر پور شیلٹرہوم میں معصوم بچیوں کے ساتھ ہوئے گھناﺅنے معاملے میں ملوث اپنے دلارے ، پیارے اور چہیتے ملزم برجیش ٹھاکر کے ساتھ کیک کاٹ رہے ہیں۔“

اپوزیشن لیڈر نے آگے لکھا کہ جس بلب اور سڑک کی بات وزیراعلیٰ کر رہے ہیں یہ سال 2004 سے 2014 متحدہ ترقی پسنداتحاد (یو پی اے) ایک اور دو حکومت کی دین ہے جس میں ہمارے قومی صدر اور اس وقت کے وزیر ریل لالو پرساد یادو سمیت کئی وزراء نے پارٹی سیاست سے اوپر اٹھ کر بہار کے ترقیاتی کاموں کیلئے لامحدود فنڈ دلوائے۔ اس غیر معمولی تعاون کو کئی عوامی اسٹیچ پر وزیراعلیٰ نے قبول بھی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یو پی اے مدت کار میں بہار کو دی گئی مالی مدد پر کوئی تقابلی بحث کرنا چاہتا ہے تو وہ اس چیلنج کیلئے تیار ہیں۔

تیجسوی یاد ونے کہا کہ ”سماج میں نفرت اور نا انصافی کے زہر بجھے تیر چلا کر آپ اپنے انتخابی نشان کا استعمال کر رہے ہیں۔ آپ کے پھیلائے نفرت، غرور، جرم، نا انصافی، ظلم، عدم مساوات کے اندھیروں کو مٹا کر، پیا ر اور بھائی چارہ کی روشنی پھیلا کر ہم اپنے انتخابی نشان کا استعمال کر رہے ہیں۔ لیکن آپ اسے کیا سمجھیں گے۔ جو چلائے نفرت اور تشدد کے ” تیر“ وہ کیا سمجھے گا بہار کی ”پیڑ“ یعنی تکلیف۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں عوام کی عدالت سب سے بڑی ہوتی ہے اور ان کا ہر فیصلہ منظور ہے۔