راجیہ سبھا نہیں جانا چاہتے تھے نتیش کمار مگر بی جے پی کے دباؤ میں ہوئے مجبور: تیجسوی یادو
آرجے ڈی کے کارگزار صدر تیجسوی یادو نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ بی جے پی جے ڈی یو کو تباہ کرنا چاہتی ہے۔ نتیش کمار کو اسی سازش کے تحت راجیہ سبھا میں جانے پر مجبور کیا گیا ہے۔
بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے راجیہ سبھا میں جانے کے معاملے پر سیاست بدستور جاری ہے۔ اب ایک بار پھر آر جے ڈی کے کارگزار صدر تیجسوی یادو نے دعویٰ کیا ہے کہ نتیش کمار نے بی جے پی کے دباؤ میں راجیہ سبھا میں جانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ نتیش کمار راجیہ سبھا نہیں جانا چاہتے تھے لیکن اتحادی بی جے پی کے دباؤ میں وہ ایسا کرنے کے لیے مجبور ہوئے۔ بی جے پی جے ڈی یو کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔
بہار کے سب سے طویل عرصے تک وزیر اعلیٰ رہنے والے نتیش کمار 16 مارچ کو راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ اس پیش رفت پر تبصرے کے لیے پوچھے جانے پرتیجسوی یادو نے کہا کہ نتیش کمار خواہ جے ڈی یو کے قومی صدر ہوں لیکن پارٹی اب ان کے ذریعے نہیں بلکہ بی جے پی کے ساتھ ملی بھگت کرنے والے گروپ کے ذریعے چلائی جا رہی ہے۔
بہار کے سابق نائب وزیراعلیٰ تیجسوی یادو نے مزید کہا کہ ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ بی جے پی جے ڈی یو کو تباہ کرنا چاہتی ہے۔ نتیش کمار کو اسی سازش کے تحت راجیہ سبھا میں جانے پر مجبور کیا گیا ہے۔ ریاستی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ وہ (نتیش کمار) وزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ نہیں دینا چاہتے۔
تیجسوی یادو سے آر جے ڈی کے سابق ایم ایل اے مکیش روشن کے اس الزام کے بارے میں بھی پوچھا گیا کہ چھتیس گڑھ کی عدالت نے بہار کے وزیر سنجے کمار سنگھ کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا ہے، آر جے ڈی کے کارگزار صدر نے کہا کہ حکومت کو اس الزام کی سنجیدگی سے تحقیقات کرنی چاہیے۔ وزیر کو بھی ریاست کے لوگوں کو وضاحت دینا ہوگی۔ قابل ذکر ہے کہ سنگھ نے گزشتہ سال نومبر میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں روشن سے مہوا سیٹ چھین لی تھی۔
آر جے ڈی لیڈر تیجسوی نے وزیر اعظم نریندر مودی کی اس اپیل پر بھی ردعمل ظاہر کیا جس میں انہوں نے مغربی ایشیا میں جاری بحران کے پیش نظر کووڈ۔19 وبائی امراض کی طرح ہی ملک سے ہوشیار اورتیاررہنے کو کہا تھا۔ آر جے ڈی لیڈر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ان کی اپنی حکومت کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ کسی بھی بحران سے نمٹنے میں ناکام رہی ہے، چاہے وہ نوٹ بندی ہو یا وبائی بیماری ہو۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔