نتیش کمار نے انتخابی وعدہ توڑا، بہار کے ساتھ وفاداری نہیں نبھائی: طارق انور

کانگریس رہنما طارق انور نے نتیش کمار پر انتخابی وعدہ توڑنے اور بہار کے عوام کے ساتھ وفاداری نہ نبھانے کا الزام لگایا، ساتھ ہی خارجہ پالیسی، اویسی اور دیگر معاملات پر بھی سخت تنقید کی

<div class="paragraphs"><p>طارق انور / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ طارق انور نے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے انتخابی وعدہ توڑ کر ریاست کے عوام کے ساتھ وفاداری نہیں نبھائی۔ نئی دہلی میں آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے طارق انور نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران نتیش کمار نے پانچ برس تک بہار کی خدمت کرنے کا عہد کیا تھا، لیکن اب انہوں نے اپنا فیصلہ بدل لیا، جو عوام کے اعتماد کے خلاف ہے۔

طارق انور نے کہا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ نتیش کمار نے کن حالات یا دباؤ میں اپنا مؤقف تبدیل کیا، مگر بہار کے عوام اس طرزِ عمل کو قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نتیش کمار کے بارے میں کچھ بھی یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کیونکہ وہ کب کیا فیصلہ کر لیں، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

کانگریس رہنما نے پون کھیڑا کو ملی ضمانت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کا فیصلہ درست ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آسام پولیس نے پون کھیڑا کے خلاف ایسی کارروائی کی جیسے انہوں نے کوئی سنگین جرم کیا ہو، حالانکہ معاملہ اس نوعیت کا نہیں تھا۔


طارق انور نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ کی اہلیہ کے حوالے سے پون کھیڑا کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی جانچ الیکشن کمیشن کو فوری طور پر کرنی چاہیے تھی تاکہ سچائی سامنے آ سکے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کرانے میں پاکستان کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے طارق انور نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے نوبل انعام کی بات کرنا بے معنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کردار ہندوستان کو ادا کرنا چاہیے تھا لیکن ملک کی خارجہ پالیسی درست سمت میں نہیں جا رہی، جس کی وجہ سے ہندوستان عالمی سطح پر پیچھے رہ جاتا ہے۔

مغربی بنگال کی سیاست پر بات کرتے ہوئے انہوں نے اویسی کی جماعت اور ہمایوں کبیر کے درمیان اتحاد ٹوٹنے کے معاملے پر کہا کہ سامنے آنے والی ویڈیو نے ہمایوں کبیر کی حقیقت ظاہر کر دی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ سب بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتخابی حکمت عملی کا حصہ تھا، جس کے ذریعے وہ اپنے ووٹ بینک کو واپس حاصل کرنا چاہتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اچھی بات یہ ہے کہ اب حقیقت سامنے آ چکی ہے اور یہ واضح ہو گیا ہے کہ اس کے پیچھے سیاسی کھیل کارفرما تھا۔

وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے دورۂ ماریشس پر بھی طارق انور نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ دورہ کرنا ہی تھا تو پہلے قدم اٹھایا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ خارجہ پالیسی مؤثر ثابت نہیں ہو رہی اور حکومت کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔