آج دوپہر تک ’نسرگ‘ طوفان مہاراشٹر اور گجرات کے ساحل پر دے گا دستک

ساحلی اضلاع میں 100-110 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے اور بعد میں اس کی رفتار 120 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیاگیا ہے.

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

محکمہ موسمیات کے مطابق شدید طوفان ’نسرگ‘ کا آج دوپہر تک مہاراشٹر کے ساحل سے ٹکرانے کا خدشہ ہے ۔ یہ دونوں ریاستیں پہلے ہی کورونا وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہیں ۔ واضح رہے جب یہ طوفان آئے گا تو اس وقت ہوا کی رفتار 120 کلومیٹر فی گھنٹے ہونے کا اندازہ لگایا جا رہا ہے ۔

ریاستی حکومتوں اور مرکزی حکومت نے لوگوں کو اس طوفان سے بچانے کے لئے تمام ضروری اقدامات کر لئے ہیں۔ گجرات اور مہاراشٹر کے ممکنہ متاثرہ علاقوں سے تقریبا ایک لاکھ لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا ہے۔ دوسری جانب مچھوواروں کو ساحلی علاقہ سے دور رہنے کے لئے کہا گیا ہے۔

ریاست کے ساحلی اضلاع میں 100-110 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چلنے اور بعد میں اس کی رفتار 120 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیاگیا ہے. ساتھ ہی ان اضلاع میں بھاری بارش ہونے اور 1-2 میٹر بلند لہریں اٹھنے کا بھی اندیشہ ہے ۔ طوفان سے مہاراشٹر کے ساحلی اضلاع رائے گڑھ، ممبئی، تھانے اور پالگھر کے ساتھ ساتھ گجرات کے ولساڈ، نوساري، سورت، بھاونگر اور بھروچ اضلاع اور دمن، دادرا اور نگر حویلی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

کابینہ سیکریٹری راجیو گوبا نے آج یہاں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹی کے اجلاس میں طوفان ’نسرگ‘ سے نمٹنے کے لئے گجرات اور مہاراشٹر ریاستی حکومتوں اور دیگر ایجنسیوں کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔اجلاس میں ریاستی حکومتوں کے حکام نے مختلف ابتدائی اقدامات کی معلومات فراہم کی ۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اشیاءضروری کے کافی ذخائر دستیاب ہیں اور تمام ہنگامی خدمات کے لئے مکمل تیاری کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ مواصلات کی طرف سے فراہم کی جا رہی ایس ایم ایس سہولت کا استعمال طوفان سے متاثر ہونے والے لوگوں کو آگاہ کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا جا رہا ہے ۔

نیشنل ڈیزاسٹررسپانس فورس نے ان ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں میں 40 ٹیموں کو تعینات کیا ہے اور اضافی ٹیموں کو بھی ہوائی راستے سے وہاں پہنچایا جا رہا ہے۔ فوج اور بحریہ کے راحتی عملے کے ساتھ ساتھ بحریہ اور فضائیہ کے بحری جہازوں اور طیاروں کا بھی ایمرجنسی انتظام کیا گیا ہے ۔ کوسٹ گارڈ کے جہاز پہلے ہی سمندر میں ماہی گیروں کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔

ریاستوں اور مرکزی ایجنسیوں کی تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے کابینہ سیکریٹری نے ہدایت دی کہ طوفان کے راستے میں پڑنے والے نشیبی علاقوں سے لوگوں کو محفوظ نکالنے کے لئے تمام ضروری اقدامات کئے جائیں اور اس کے ساتھ ہی سمندر سے سب ماہی گیروں کی واپسی کو یقینی بنایا جائے ۔ اس کے علاوہ، اس بات کو یقینی بنانے کے لئے بھی خاص کوششیں کی جا سکتی ہیں کہ كووڈ مریضوں کے لئے ضروری طبی خدمات متاثرنہ ہو ۔ ان ایجنسیاں کو بجلی، ٹیلی کمیونیکیشن، نیوکلیائی، کیمیائی، ہوا بازی اور شپنگ سے متعلق بنیادی ڈھانچے اور اثاثوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے ہنگامی منصوبوں کو چالو کرنے کے لئے بھی ہدایت کی۔

مہاراشٹر اور گجرات کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری اور دادرا اور نگر حویلی اور دمن اور دیو کے ایڈمنسٹریٹر کے مشیر نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اس اجلاس میں شرکت کی ۔ داخلہ، شپنگ، بجلی، ریلوے، ٹیلی کمیونیکیشن، پٹرولیم اور قدرتی گیس، نیوکلیائی توانائی، شہری ہوا بازی اور صحت وزارتوں اور متعلقہ ایجنسیوں کے حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی ۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹی بدھ کو بھی میٹنگ کرکے صورتحال کا جائزہ لے گی ۔