نربھیا معاملہ: رحم کی عرضی خارج کئے جانے کے خلاف ونے شرما کی عرضی مسترد

سپریم کورٹ نے ملک کو دہلا دینے والے نربھیا اجتماعی آبروریزی اور قتل معاملے کے قصوروار ونے شرما کی صدر جمہوریہ کے ذریعہ رحم کی عرضی کو خارج کئے جانے کو چیلنج دینے والی عرضی جمعہ کو خارج کر دی

سپریم کورٹ
سپریم کورٹ
user

یو این آئی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ملک کو دہلا دینے والے نربھیا اجتماعی آبروریزی اور قتل معاملے کے قصوروار ونے شرما کی صدر جمہوریہ کے ذریعہ رحم کی عرضی کو خارج کئے جانے کو چیلنج دینے والی عرضی جمعہ کو خارج کر دی۔ جسٹس آر بھانومتی، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس اے ایس بوپنا کی خصوصی بینچ نے کہا کہ ونے کی عرضی میں کوئی دم نظر نہیں آ رہا ہے۔

جسٹس بھانومتی نے بینچ کی جانب سے فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا کہ عرضی گزاروں کا یہ کہنا کہ رحم کی عرضی خارج کئے جانے کے لئے کی گئی سفارش پر دہلی کے لیفٹننٹ گورنر اور ریاست کے وزیر داخلہ کے دستخط نہیں ہوئے ہیں، غلط ہے۔ سپریم کورٹ نے ونے کی اس دلیل کو بھی خارج کردیا کہ اس کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔

ونے کے وکیل اے پی سنگھ نے سماعت کے دوران نئی دلیل دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کے مؤکل کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔بینچ نے 30 جنوری کی ایک میڈیکل رپورٹ کے حوالے سے کہا کہ عرضی گزاروں کی ذہنی حالت خراب ہونے کی دلیل منظور کئے جانے کے قابل نہیں ہے۔

جسٹس بھانومتی نے کہا کہ صدر کے ذریعہ رحم کی عرضی خارج کئے جانے میں کسی قسم کی کوئی قانونی لاپروائی نہیں برتی گئی۔ عدالت نے ونے شرما کے وکیل اے پی سنگھ اور مرکزی حکومت کی جانب سے پیش سالیسیٹر جنرل تشار مہتا کے دلائل سننے کے بعد جمعرات کو فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔

اے پی سنگھ نے یہ بھی دلیل دی تھی کہ ان کے مؤکل کو متعلقہ دستاویز مہیا نہیں کرایا گیاتھا۔ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ لیفٹننٹ گورنر اور دہلی حکومت کے وزیر داخلہ نے رحم کی عرضی خارج کرنے کے سفارشی خط پر دستخط نہیں کئے ہیں۔ ونے نےعدالت سے صدر کے فیصلے کا جائزہ لینے کی اپیل کی ہے۔ اس نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ اس کی رحم کی عرضی صدر نے جلد بازی میں خارج کی ہے۔ واضح رہے کہ صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند نے گزشتہ یکم فروری کو ونے شرما کی رحم کی عرضی یکسر مسترد کر دیا تھا۔

دارالحکومت کےجنوبی دہلی میں نربھیا کے ساتھ 16 دسمبر 2012 کو چلتی بس میں اجتماعی آبروریزی کی تھی اور اسے سڑک پر پھینک دیا گیا تھا۔ اسے سنگاپور کے کوین الیزابیتھ اسپتال ایئرلفٹ کرکے لے جایا گیا تھا۔ وہاں اس کی موت ہو گئی تھی۔ اس معاملے میں چھ ملزمین کو گرفتار کیا گیا تھا، جس میں ایک نابالغ تھا، جسے تین سال کے لئے اصلاحی مرکز بھیجا گیا تھا۔ جبکہ ایک ملزم رام سنگھ نے تہاڑ جیل میں خودکشی کرلی تھی۔ چار دیگر ملزمین مکیش سنگھ، اکشے ٹھاکر، ونے شرما اور پون گپتا کو پھانسی کی سزا ہوئی تھی۔

next