نربھیا معاملہ: قصوروار مکیش کی رحم کی عرضی خارج، متاثرہ کی ماں کے آنسو چھلکے

صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے جمعہ کے روز نربھیا معاملہ کے قصوروار مکیش کمار کی رحم کی عرضی خارج کر دی۔ اس کے ساتھ ہی اس کی پھانسی کے لیے راستے صاف ہو گئے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند نے نربھیا معاملے کے ایک قصوروار مکیش سنگھ کی جانب سے دائر کی گئی رحم کی عرضی جمعہ کے روز خارج کردی اس سے قبل وزارت داخلہ نے رحم کی عرضی کو خارج کرنے سے متعلق سفارش صدر کو بھیجی تھی۔

ذرائع کے مطابق، اس سے قبل دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انیل بیجل نے رحم کی عرضی کو خارج کرنے کی سفارش کرتے ہوئے مرکزی وزارت داخلہ کو ایک فائل بھیجی تھی۔ وزارت داخلہ نے بھی جمعرات کی شب عرضی صدر کو ارسال کر دی اور اسے مسترد کرنے کی سفارش کی۔ بعد میں صدر نے عرضی کو خارج کر دیا۔

ونے شرما، اکشے کمار سنگھ، پون گپتا اور مکیش سنگھ کو دسمبر 2012 میں نربھیا کی اجتماعی آبرو ریزی معاملے میں پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے اور انہیں 22 جنوری کو تہاڑ جیل میں پھانسی دینے کا حکم دیا گیا تھا۔

استغاثہ نے اس معاملے پر بدھ کے روز دلی ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران کہا تھا کہ قصورواروں کو 22 جنوری کو پھانسی نہیں دی جاسکتی کیونکہ اس معاملے کے ایک قصوروار کی رحم کی عرضی پر کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے۔

دریں اثناء، مجرموں کی پھانسی میں تاخیر پر نربھیا کی ماں آشا دیوی کے آنسو چھلک اٹھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی بچی کی موت کے ساتھ مسلسل کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ آشا دیوی نے کہا کہ ’’وہ لوگ جو 2012 میں ترنگے کے ساتھ مظاہرہ کر رہے تھے آج کل وہ ہی اس پر سیاست کر رہے ہیں۔ واقعے کے بعد تو انہوں نے کالی پٹی باندھی اور نعرے لگائے لیکن آج وہی اس بچی کی موت پر کھلواڑ کر رہے ہیں۔ آج پھانسی کو روک دیا گیا اور سیاست کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔‘‘

ادھر، نیربھیا کے قاتلوں کو تہاڑ جیل کمپلیکس کے بیرک نمبر تین میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں انہیں پھانسی دی جانی ہے۔ یہ وہی نمبر تین بیرک ہے جس میں پھانسی گھر موجود ہے۔ علاوہ ازیں تہاڑ جیل انتظامیہ بھی اپنی تیاریوں میں مصروف ہے۔