سعودی میں ملازمت کر رہے دولہا کو نہیں ملی چھٹی، ویڈیو کال پر ہوا نکاح

ویڈیو کانفرنسنگ یا ٹیلی فون کے ذریعہ نکاح جائز ہے یا نہیں، اس طرح کے سوالات علماء سے پوچھے جاتے ہیں، انٹر نیٹ پر دئیے گئے فتووں پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ علماء کی رائے اس مسئلہ پر منقسم ہے۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

قومی آوازبیورو

سعودی عرب میں ملازمت کرنے والے ایک نوجوان کو چھٹی نہیں مل سکی جس کے سبب وہ نکاح کے طے شدہ وقت پر نہیں پہنچ سکا، اس کے بعد اہل خانہ نے ویڈیو کالنگ کے ذریعہ نکاح کرانے کا فیصلہ لیا۔ منگل کے روز نکاح ہونے کے بعد دیر شام دولہے کےخاندان کے افراد دلہن کو رخصت کراکر گھر لے گئے۔

معاملہ گونڈہ کے کرنیل گنج دیہات کا ہے۔ یہاں کے رہائشی رمضان ولد لیاقت سعودی عرب میں ملازمت کرتا ہے۔ رمضان کا نکاح گونڈہ کے رادھا کنڈ رہائشی علیم کی دختر اکبری کے ساتھ ہونا مقرر ہوا تھا۔ رمضان نے اپنے نکاح کا حوالہ دے کر چھٹی مانگی لیکن اس کے شیخ نے چھٹی نہیں دی۔

رمضان کو چھٹی نہ ملنے سے دونوں کے اہل خانہ پریشان ہو گئے۔ صلاح و مشورہ کے بعد یہ طے پایا کہ نکاح ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ مکمل کرایا جائے گا، بارات وقت مقرہ پر گونڈہ میں واقع میرج ہال پہنچی، دولہے کو ویڈیو کال کی گئی اور قاضی نے ویڈیو کال پر ہی نکاح پڑھا دیا۔

ویڈیو کانفرنسنگ یا ٹیلی فون کے ذریعہ نکاح جائز ہے یا نہیں، اکثر اس طرح کے سوالات علماء سے پوچھے جاتے ہیں اور آن لائن طریقہ سے دئیے گئے فتووں پر نظر ڈالنے پر ظاہر ہوتا ہے کہ علماء کی رائے اس پر منقسم ہے۔ جیسے ’منہاج قرآن‘ کی طرف سے چلائی جا رہی ویب سائٹ ’فتوی آن لائن‘ (دی فتوی ڈاٹ کام) پر ایک سوال کے جواب میں کہا گیا ہے’’جدید وسائل اور ذرائع نے دور دراز بیٹھے لوگوں کو دیکھنا اور سننا ممکن بنا دیا ہے۔ اس لیے بعض اوقات مجالسِ نکاح ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے منعقد کی جاتی ہیں۔ اگر ویڈیو کال کے ذریعے ہونے والے نکاح میں نکاح کے ارکان اور شرائط (ایجاب و قبول، ولی کی اجازت، شہادتین اور حق مہر وغیرہ) پورے کیے گئے ہیں تو نکاح ہو جائے گا، اگر ان شرائط میں کوئی ایک شے مفقود ہو یا حقیقت کے برعکس ہے تو نکاح نہیں ہوگا۔ ‘‘

ادھر دارالعلوم کی ویب سائٹ ( دارالافتا-دیوبند ڈاٹ کام ) پر ایک سوال کے جواب میں کہا گیا ہے ’’نکاح کے لئے یہ شرط ہے کہ دو گواہ بذات خود مجلس عقد میں موجود ہوں، تاکہ بوقت ضرورت وہ گواہی دے سکیں، جبکہ ویڈیو کانفرنس کال، لائیو ویڈیو کانفرنس وغیرہ میں ایسا نہیں ہے، بلکہ ویڈیو کانفرنسنگ میں مختلف مناظر کو مصنوعی طریقے پر منسلک کرنے کی گنجائش ہوتی ہے ۔ لہٰذا ویڈیو کانفرنس کال، لائیو ویڈیو کانفرنس وغیرہ کے ذریعہ نکاح نہیں ہوگا۔ ‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔