میر واعظ اور گیلانی کے بیٹوں کو پوچھ گچھ کے لئے این آئی اے نے دہلی طلب کیا

میر واعظ اور گیلانی کے بیٹوں کو 11 مارچ یعنی پیرکے روز این آئی اے ہیڈکوارٹر میں حاضر ہونے کے لئے کہا گیا ہے۔ یہ تیسری بار ہے جب گیلانی کے فرزند نسیم گیلانی کو این آئی اے نے پوچھ گچھ کے لئے طلب کیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

سری نگر: پاکستان اور دوسرے ممالک سے ہونے والی مبینہ ٹیرر فنڈنگ کی جانچ کے سلسلے میں قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے حریت کانفرنس (ع) چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق اور حریت کانفرنس (گ) چیئرمین سید علی گیلانی کے فرزند سید نسیم گیلانی کو پوچھ گچھ کے لئے این آئی اے ہیدکوارٹر نئی دہلی طلب کرلیا ہے۔

انہیں 11 مارچ یعنی پیر کے روز نئی دہلی میں این آئی اے کے ہیڈکوارٹرس میں حاضر ہونے کے لئے کہا گیا ہے۔ یہ تیسری بار ہے جب گیلانی کے فرزند نسیم گیلانی کو این آئی اے نے پوچھ گچھ کے لئے طلب کیا ہے۔

واضح رہے کہ این آئی اے نے گذشتہ ماہ (فروری) کی 26 تاریخ کو کئی علیحدگی پسند لیڈران بشمول میرواعظ عمر فاروق، جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک، تحریک حریت چیئرمین محمد اشرف صحرائی، ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے سربراہ شبیر احمد شاہ، حریت کانفرنس (گ) چیئرمین سید علی گیلانی کے فرزند سید نسیم گیلانی، مسرت عالم بٹ اور سالویشن مومنٹ کے چیئرمین ظفر اکبر بٹ کے گھروں پر چھاپے مارے۔

یہ چھاپہ مار کاروائیاں این آئی اے کے مطابق پہلے سے درج ٹیرر فنڈنگ کیس کے سلسلے میں انجام دی گئی تھیں۔ مذکورہ کیس میں اب تک قریب ایک درجن کشمیری علیحدگی پسند رہنماﺅں اور معروف تاجروں کو گرفتار کیا جاچکا ہے جنہیں دلی کی تہاڑ جیل میں مقید رکھا گیا ہے۔

یاسین ملک کے گھر پر این آئی اے کے چھاپے کے محض ایک ہفتہ بعد ان پر پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیا گیا اور انہیں جموں کے کوٹ بلوال جیل منتقل کیا گیا۔ تاہم این آئی اے نے جس وقت ملک کے گھر پر چھاپہ مارا تھا موصوف (یاسین ملک) اس وقت پولس تھانہ کوٹھی باغ میں مقید تھے کیونکہ انہیں ریاستی پولس نے 22 اور 23 فروری کی درمیانی رات کے دوران ہی گرفتار کیا تھا۔

میرواعظ عمر فاروق جو کہ جموں وکشمیر کے سب سے بڑے مذہبی رہنما ہیں، نے این آئی اے کی چھاپہ مار کاروائی پر کہا تھا کہ 'یہ انتہائی بدقسمتی ہے کہ محض ایک مقامی پرائیوٹ انٹرنیٹ لیز لائن کو ہارٹ لائن سے تعبیرکرکے ایک غلط تاثر دینے کی کوشش کی گئی جبکہ اس طرح کی سہولت یہاں میڈیا سے وابستہ افراد کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کو بھی حاصل ہے۔ این آئی اے کا یہ رویہ حد درجہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے'۔

این آئی اے نے گذشتہ دو برس کے دوران سابق ممبر اسمبلی انجینئر رشید، کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم، تجارتی انجمن 'کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن' کے صدر حاجی محمد یاسین خان، کشمیر یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر اعلیٰ فاضلی، ایک نوجوان صحافی سمیت درجنوں افراد کو پوچھ گچھ کے لئے طلب کیا ہے۔

دریں اثنا میرواعظ عمر فاروق کی نئی دہلی طلبی کی خبر پھیلتے ہی ہفتہ کی سہ پہر پائین شہر کے بعض حصوں بالخصوص نوہٹہ میں دکانداروں نے احتجاج کے طور پر اپنی دکانیں بند کیں۔

next