کنجھاولا معاملہ میں حیران کن انکشاف! گانجے کی سپلائی کرتی تھی مہلوک انجلی کی دوست ندھی، 2020 میں ہو چکی ہے گرفتار

ندھی 6 دسمبر 2020 کو آگرہ کینٹ اسٹیشن سے پکڑی گئی تھی اور اس سے 10 کلو گانجہ برآمد ہوا تھا۔ جس وقت ندھی کو جی آر پی نے آگرہ سے گرفتار کیا، وہ تلنگانہ کے سکندرآباد سے گانجہ لے کر دہلی جا رہی تھی۔

<div class="paragraphs"><p>متاثرہ لڑکی کے حق میں انصاف کے لئے احتجاج کرتے مقامی افراد / یو این آئی</p></div>

متاثرہ لڑکی کے حق میں انصاف کے لئے احتجاج کرتے مقامی افراد / یو این آئی

user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: پولیس نے کنجھاولا کیس میں حیران کن انکشاف کیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ انجلی کی دوست ندھی گانجہ سپلائی کرتی تھی۔ اتنا ہی نہیں ندھی کو 2020 میں آگرہ میں غیر قانونی اسمگلنگ کرتے ہوئے گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ ندھی 6 دسمبر 2020 کو آگرہ کینٹ اسٹیشن سے پکڑی گئی تھی اور اس سے 10 کلو گانجہ برآمد ہوا تھا۔ جس وقت ندھی کو جی آر پی نے آگرہ سے گرفتار کیا، وہ تلنگانہ کے سکندرآباد سے گانجہ لے کر دہلی جا رہی تھی۔ ندھی دہلی کے سلطان پوری کی رہنے والی ہے۔ ادھر، کنجھاولا کیس کے تمام 7 ملزمان اب پولیس کی حراست میں ہیں۔

خیال رہے کہ 31 دسمبر کو پارٹی کے بعد گھر لوٹ رہی انجلی کی اسکوٹی کو یکم جنوری کی صبح تقریباً 2 بجے ایک کار نے ٹکر مار دی تھی اور اسے 13 کلومیٹر تک گھسیٹا تھا۔ انجلی کی لاش باہری دہلی کے کنجھاولا سے برآمد ہوئی تھی۔ مبینہ طور پر کار میں سوار کل 7 افراد کے خلاف غیر ارادتاً قتل سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ واقعہ کے وقت ندھی انجلی کے ساتھ تھی۔


ندھی نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ واقعہ کے وقت انجلی نے شراب پی ہوئی تھی۔ جس پر انجلی کی ماں ریکھا دیوی نے صحافیوں سے کہا تھا کہ ان کی بیٹی نے زندگی میں کبھی شراب نہیں پی۔ انہوں نے کہا ’’میں نے ندھی کو کبھی نہیں دیکھا اور نہ ہی اس کے بارے میں کبھی سنا۔ وہ کبھی ہمارے گھر نہیں آئی۔ وہ جھوٹ بولتی ہے۔ میری بیٹی نے کبھی شراب نہیں پی۔ وہ کبھی نشے میں گھر نہیں آئی۔‘‘

وہیں، ندھی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ انجلی کار کے نیچے پھنس گئی اور اسے کارے کے ذریعے گھسیٹا گیا تھا۔ گاڑی میں سوار لوگوں نے ایک بار بھی انجلی کو بچانے کی کوشش نہیں کی۔ اس نے کہا کہ اس نے حادثے کے بارے میں کسی کو نہیں بتایا کیونکہ وہ خوفزدہ تھی اور اس بات کا خدشہ تھا کہ کہیں اسے ہی مورد الزام نہ ٹھہرا دیا جائے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔