نیا ٹریفک قانون: مودی حکومت کے خلاف کھڑی ہوئیں 5 بی جے پی حکمراں ریاستیں

بی جے پی حکمراں ریاستوں سمیت کئی ریاستی حکومتوں نے ٹریفک کے نئے قانون کو نافذ کرنے سے انکار کر دیا یا پھر جرمانے کی رقم نصف کر دی۔ ’ایک ملک، ایک قانون‘ کی بات کرنے والی بی جے پی اب کشمکش میں ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

ٹریفک قانون 2019 کے نافذ ہونے کے بعد سے ہی یہ موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ سب سے زیادہ بحث ٹریفک قانون توڑنے کے بعد لگنے والے زبردست جرمانے کی ہو رہی ہے۔ علاوہ ازیں یکم ستمبر کو قانون نافذ ہوا اور 11 ستمبر تک اس کا ’جگاڑ‘ بھی نکل گیا۔ کئی ریاستوں نے قانون میں تبدیلی لا کر لوگوں کو بھاری جرمانے سے راحت دی ہے۔ کئی ریاستوں نے قانون کو ماننے سے ہی انکار کر دیا ہے۔

ٹریفک کے نئے قانون کا سب سے زیادہ بی جے پی حکمراں ریاستوں میں ہی مخالفت ہو رہی ہے۔ بی جے پی حکمراں ریاستوں سمیت کئی ریاستی حکومتوں نے اس قانون کو نافذ کرنے سے انکار کر دیا ہے یا پھر جرمانے کی رقم نصف کر دی گئی ہے۔ ایک ملک، ایک قانون کی بات کرنے والی بی جے پی اب کشمکش کی حالت میں ہے۔ لوک سبھا انتخاب میں زبردست اکثریت حاصل کرنے والی بی جے پی اپنی ہی ریاستی حکومتوں سے مرکز کے ذریعہ پاس قانون نافذ نہیں کروا پائی۔ ابھی تک 5 بی جے پی حکمراں ریاستوں نے مرکزی حکومت کے قانون کے اثر کو کم کرنے کا کام کیا ہے۔

پہلا نام ہے گجرات کا۔ سب سے پہلے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی آبائی ریاست گجرات نے ہی مرکزی حکومت کے فیصلے سے دوری بنا لی۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ وجے روپانی نے کئی جرمانوں پر بھاری چھوٹ دینے کا اعلان کر دیا۔ گجرات حکومت نے اوسطاً 90 فیصد کی تخفیف کی ہے۔ جیسے ایمبولنس کا راستہ روکنے پر 10 ہزار کی جگہ 1 ہزار، بائیک پر اوور لوڈ پر 1 ہزار کی جگہ 100 روپے، بغیر رجسٹریشن کی موٹر سائیکل پر 5 ہزار کی جگہ صرف ایک ہزار روپے کا جرمانہ۔

گجرات کے بعد مہاراشٹر نے بھی اس قانون کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ غور طلب ہے کہ مرکزی وزیر برائے ٹرانسپورٹیشن نتن گڈکری کا تعلق مہاراشٹر سے ہی ہے اور وہ اس قانون کو ہر حال میں نافذ کروانا چاہتے ہیں۔ لیکن ان کی ہی آبائی ریاست نے اس نئے قانون سے کنارہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ دراصل مہاراشٹر میں کچھ ہی مہینوں میں انتخاب ہونے والے ہیں، ایسے میں ریاست کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کوئی جوکھم نہیں اٹھانا چاہتے۔ مہاراشٹر کے وزیر برائے ٹرانسپورٹیشن اس ایشو پر نتن گڈکری کو چٹھی بھی لکھنے والے ہیں۔

ایک دیگر بی جے پی حکمراں ریاست اتراکھنڈ نے بھی نئے ٹریفک قانون کو لے کر منفی رد عمل ظاہر کیا ہے۔ اتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت نے جرمانہ کی رقم کو کافی زیادہ بتایا ہے۔ وزیر اعلیٰ تریویندر سنگھ راوت نے ریاست میں نئے موٹر وہیکل ایکٹ میں ترمیم کیا اور کئی جرمانے کی رقم نصف کر دی۔ مثال کے طور پر بغیر لائسنس کے گاڑی چلانے پر 5000 کی جگہ 2500 روپے کا جرمانہ طے کیا۔

کئی بی جے پی حکمراں ریاستیں انتخاب کی وجہ سے بھی نئے ٹریفک قانون کو نافذ کرنے سے ڈر رہی ہیں۔ مہاراشٹر کی طرح ہی کچھ مہینوں میں جھارکھنڈ میں بھی انتخابات ہونے والے ہیں اور یہاں پر بھی ووٹوں کی فکر ہے۔ اس ریاست میں بھی نیا موٹر وہیکل ایکٹ فی الحال نافذ نہیں ہوا ہے اور ریاستی حکومت نے پہلے ہی جرمانے میں تخفیف کا اشارہ دے دیا ہے۔

جھارکھنڈ کی طرح ہریانہ میں بھی اس سال اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ ایسے ماحول میں ہریانہ کی بی جے پی حکومت کو ووٹ کٹنے کا خوف کھائے جا رہا ہے۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے ابھی نیا موٹر وہیکل ایکٹ نافذ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے پورے ہریانہ میں ٹریفک قانون کے لیے بیداری مہم چلائی جائے گی۔ ریاستی حکومت 45 دنوں تک یہ مہم چلائے گی۔

ان ریاستوں کے علاوہ مغربی بنگال، کرناٹک جیسی کچھ دیگر ریاستیں بھی موٹر وہیکل ایکٹ کے خلاف محاذ کھولے ہوئی ہیں۔ غور طلب ہے کہ مرکزی وزیر نتن گڈکری نے کہا ہے کہ مرکز کی طرف سے یہ جرمانہ کمائی کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کی سیکورٹی کے لیے لگایا گیا ہے۔ اگر قانون سخت ہوگا تو لوگ اس پر عمل کریں گے۔