جے این یو طلبا یونین کی تمام سیٹوں پر ’لال سلام‘

جے این یو طلبا یونین کے انتخابات کے نتائج کا اعلان ہو چکا ہے اور لیفٹ نے تمام سیٹوں پر جیت حاصل کی ہے۔

سنٹرل پینل (صدر) کل 5185 ووٹوں کی گنتی کے بعد:

گنے گئے ووٹ: 4481

این سائی بالا جی (لیفٹ یونٹی): 2151

للت پانڈے (اے بی وی پی): 972

لیفٹ یونٹی 1179 ووٹوں سے فتحیاب

نائب صدر:

سارکا (لیفٹ یونٹی): 2592

گیتا سری (اے بی وی پی): 101

لیفٹ یونٹی 1579 ووٹوں سے فتحیاب

جنرل سکریٹری:

اعجاز احمد راتھر (لیفٹ یونٹی): 2426

گنیش گوجر (اے بی وی پی): 1235

لیفٹ یونٹی 1193 ووٹوں سے فتحیاب

جوائنٹ سکریٹری

اموتھا جے دیپ (لیفٹ یونٹی): 2047

وینکٹ چوبے (اے بی وی پی): 1290

لیفٹ یونٹی 757 ووٹوں سے فتحیاب

جے این یو ایس یو: سیٹوں کی صورت حال

سنٹرل پینل (صدر)

کل ووٹ: 5185

گنے گئے ووٹ: 4481

این سائی بالا جی (لیفٹ): 1861

للت پانڈے (اے بی وی پی): 833

تھلا پلی پروین (باپسا): 512

وکاس یادو (این ایس یو آئی): 354

نوٹا: 116

نائب صدر:

سارکا چودھری (لیفٹ): 2209

گیتا بروا (اے بی وی پی): 872

لزی کے بابو (این ایس یو آئی): 417

پورنا چندرا نائیک (باپسا): 554

جنرل سکریٹری

اعجاز احمد راتھر (لیفٹ): 2115

گنیش گوجر (اے وی وی پی): 1079

محمد مفضل عالم (این ایس یو آئی): 306

وشمبر ناتھ پرجاپتی (باپسا): 686

جوائنٹ سکریٹری

اموتھا جے دیپ (لیفٹ): 1775

وینکٹ چوبے (اے بی وی پی): 1071

نورینگ رینا (این ایس یو آئی): 693

کنک لتا یادو (باپسا): 568

جے این یو ایس یو نتائج: تمام سیٹوں پر لیفٹ آگے

جے این یو طلبا یونین انتخابات کے ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور اب تک موصول ہوئے رجحانات کے مطابق صدر عہدے کے لئے 2931 ووٹوں کی گنتی کے بعد لیفٹ اتحاد 1193 ووٹوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے جبکہ اے بی وی پی 561 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

وہیں نائب صدر عہدے پر لیفٹ کی سارکا 1371 ووٹوں کے ساتھ پہلے مقام پر اور اے بی وی پی کی گیتا 570 ووٹوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔

جنرل سکریٹری عہدے پر لیفٹ کے اعجاز اور جوائنٹ سکریٹری عہدے پر لیفٹ کی ہی اموتھا برتری بنائے ہوئے ہیں۔

LIVE: Controversial JNU student election night marred with clashes, allegations of hostility ABVP and Left neck-and-neck in the vote tally so far

Posted by The Quint on Saturday, September 15, 2018

قبل ازیں جمعہ کی رات کاؤنٹنگ کے مرکز پر مچے وبال کے بعد ووٹوں کی گنتی روک دی گئی تھی۔ الزام ہے کہ اے بی وی پی کے امیدواروں اور کارکنان نے الیکشن کمیٹی کے ارکان پر حملہ کیا اور مرکز پر توڑ پھوڑ کی تھی۔ ہفتہ کی شام کو ووٹوں کی گنتی دوبارہ شروع کی گئی۔

سب سے زیادہ مقبول