نیٹ پیپر لیک: راؤز ایونیو کورٹ بدھ کو سی بی آئی کی چارج شیٹ پر لے گی نوٹس کا فیصلہ

نیٹ یو جی پیپر لیک کیس میں راؤز ایونیو کورٹ سی بی آئی کی 20 ہزار صفحات کی چارج شیٹ پر بدھ کو نوٹس لینے کا فیصلہ سنائے گی۔ عدالت نے تین ملزمان کی ٹیسٹ کی درخواست بھی خارج کر دی

<div class="paragraphs"><p>راؤز ایونیو کورٹ / آئی اے این ایس</p></div>
i

نئی دہلی: نیٹ یو جی پیپر لیک معاملے میں مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کی جانب سے داخل کی گئی چارج شیٹ پر راؤز ایونیو کورٹ نے پیر کو فیصلہ مؤخر کر دیا۔ عدالت اب بدھ کو چارج شیٹ پر نوٹس لینے یا نہ لینے کے سلسلے میں اپنا فیصلہ سنائے گی۔ اس معاملے میں سی بی آئی نے تقریباً 20 ہزار صفحات پر مشتمل چارج شیٹ داخل کی ہے، جس میں 13 افراد کو ملزم بنایا گیا ہے۔

راؤز ایونیو کورٹ کی خصوصی فاسٹ ٹریک عدالت میں پیر کو تمام 13 ملزمان ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران عدالت نے ملزمان منگی لال بیوال، دنیش بیوال اور وکاس بیوال کی جانب سے لائی ڈٹیکٹر، برین میپنگ اور پولی گراف ٹیسٹ کرانے کی درخواست بھی خارج کر دی۔

سی بی آئی کی چارج شیٹ میں یش یادو، منگی لال بیوال، دنیش بیوال، وکاس بیوال، شبھم خیرنار، دھننجے لوکھنڈے، پرہلاد کلکرنی، تیجس ہرشد کمار، ڈاکٹر منوج شِرورے، شیوراج رگھوناتھ موٹے گاؤنکر، منیشا واگھمارے، منیشا مندھارے اور منیشا سنجے حولدار کو ملزم بنایا گیا ہے۔


سی بی آئی نے اپنی چارج شیٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ 3 مضمون کے ماہرین نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے دہلی دفتر کے خفیہ شعبے سے نیٹ امتحان کے سوالات مختلف طریقوں سے باہر نکالے تھے۔ تفتیشی ایجنسی کے مطابق یہ اس لیے ممکن ہوا کیونکہ خفیہ شعبے سے باہر نکلتے وقت ماہرین کی تلاشی نہیں لی جاتی تھی۔

سی بی آئی کے مطابق این ٹی اے کے خفیہ شعبے میں ماہرین کے داخلے اور باہر نکلنے کے دوران جانچ یا تلاشی کا کوئی باقاعدہ نظام موجود نہیں تھا۔ ایجنسی نے یہ بھی کہا کہ این ٹی اے میں مخصوص سی سی ٹی وی لائیو فیڈ کی نگرانی کے لیے کوئی کنٹرول روم موجود نہیں تھا، جس کے نتیجے میں خفیہ ہال میں ماہرین کی سرگرمیوں پر مؤثر نظر نہیں رکھی جا سکی۔

چارج شیٹ کے مطابق ایک ملزم نے سوالات کو کاغذ کی پرچیوں پر لکھ کر انہیں چھپا دیا، جبکہ دو دیگر ملزمان نے سوالات یاد کیے اور اپنے ہوٹل کے کمروں میں واپس پہنچنے کے بعد انہیں تحریر کیا یا این سی ای آر ٹی کی کتابوں میں متعلقہ مضامین کو نشان زد کیا۔

سی بی آئی نے مزید بتایا کہ ماہرین کو ترجمہ اور دوبارہ ترجمے کے دوران رف کام کے لیے خفیہ شعبے کے اندر سادہ کاغذ کی شیٹس فراہم کی گئی تھیں۔ ایجنسی کے مطابق ملزم پی وی کلکرنی نے انہی شیٹس کا استعمال کرتے ہوئے کیمسٹری کے تمام 135 سوالات اور ان کے جوابی متبادل مختصر طور پر نوٹ کیے تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔