6 دسمبر: ’کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے‘...خرم رضا

میں نہ کسی ایسی مسجد کے حق میں ہوں نہ ہی ایسے مندر کے حق میں، جس کی وجہ سے کسی ساڑھے تین سالہ بچے کی والدہ کو تشویش ہو کہ جو 26 سال قبل ملک میں حیوانیت کا ننگا ناچ ہوا تھا وہ دوبارہ تو نہیں ہوگا۔

By سید خرم رضا

آ ج صبح گھر سے نکلتے وقت میری بھانجی کا واٹس اپ پیغام آیا کہ آج اس کے بیٹے کو پکنک پر جانا ہے، کیا اس کو بھیج دوں۔ میں نے فورا ًجواب دیا ، ہاں ہاں ، کیوں نہیں ؟ لیکن میں سوال پوچھنے کی وجہ نہیں سمجھ پایا ، تو میں نے اس کو فون کیا اور پوچھا کیوں خیریت توہے؟ اس کے اسکول کی ٹیچر وغیرہ تو ٹھیک ہیں؟ کسی بچے سے تو کوئی بات تو نہیں ہوئی؟ اس نے کہا نہیں نہیں، ایسی کوئی بات نہیں ، بس اس لئے پوچھ رہی تھی کہ آج 6 دسمبر ہے کہیں کوئی بات تو نہیں۔ میں نے اس کو تو تسلی دے دی اور کہا نہیں کوئی فکر کی بات نہیں ، لیکن میں اندر سے پوری طرح ہل گیا۔ اس کے بعد میرے ذہن میں اس اسٹوری کی تصویر گھومنے لگی جوکنال دت نے ایودھیا کی گراؤنڈ رپورٹ کے طور پر بھیجی تھی اور میں نے صبح ہی ویب سائٹ پر شائع کی تھی ۔اس اسٹوری میں وہاں کے مقامی لوگوں کے بیان تھے جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ 26 سال بعد بھی اگر ایودھیا شہر میں باہر کے لوگ آتے ہیں تو ان کو ڈر لگتا ہے ۔ وہ لوگ اپنے شہر کے پر امن ماحول سے خوش اور مطمئن ہیں لیکن باہر سے آنے والی بھیڑ سے ڈرتے ہیں۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

آخر کیوں عوام کو اس خوف کے سائے میں جینا پڑ رہا ہے ۔ اگر اس ساڑھے تین سالہ بچے کو پکنک پر بھیجنے سے اس کی ماں ڈرتی ہے اور ایک خاص تاریخ کو لے کر اگر کوئی خوف پیدا ہوتا ہے تو پھر مجھے کوئی اچھا مستقبل نظر نہیں آتا۔خدا نہ خواسطہ اگر اس بچے کی ماں اپنے طور پر فیصلہ کر کے بچے کو پکنک پر جانے سے محروم کر دیتی اور بڑے ہو کر کبھی اس بچے کو نہ بھیجنے کی وجہ پتہ چلتی تو اس کے دل و دماغ پر کیا گزرتی۔ وہ اپنے ملک کے بارے میں کیا سوچتا۔ میرے ذہن میں اس بچے کی طرح کئی سوال آ رہے ہیں ۔

کیا 26 سال تک ملک کے عوام کے ایک بڑےطبقہ کوایک واقعہ کی وجہ سے خوف کے سائے میں زندگی بسر کر نی چاہیے ؟ کیا کسی ایشو کو اتنے لمبے وقت تک زندہ رکھا جا سکتا ہے؟کیا ایسے ایشو کے ہوتے ہوئے ہم اپنے سماج کو مہذب سماج کہہ سکتے ہیں؟ کیا کوئی ملک ایسے ایشو کے ساتھ ترقی کر سکتا ہے؟ کیا ہم شدت پسند مذہبی ممالک کے ماضی سے واقف نہیں ہیں؟ اور آخر کیا ہم پاکستان کے حالات سے واقف نہیں ہیں؟۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز

تمام لوگ سارےحالات سے بخوبی واقف ہیں ، سب کو معلوم ہے کہ اس میں عقیدت مندی کا کتنا دخل ہے اور سیاست کا کیا کردار ہے۔ مجھے اس پر نہ کچھ کہنا ہے نہ لکھنا ہے ۔ مجھے ایک بات سمجھ میں نہیں آ رہی کہ جمہوریت میں عوام کی کیا حیثیت ہے ۔ کیا جمہوریت کا مقصد صرف با دشاہت کی جگہ ایک ایسا نظام حکومت کا قیام کرنا تھا جہاں حکومت عوامی رائے سے قائم ہوتی نظر آئے لیکن حکومت اور مرضی پیسہ والوں کی ہو۔ ملک کے کتنے فیصد عوام آپس میں لڑنا چاہتے ہیں ؟ملک کے کتنے فیصد عوام کو بنیادی سہو لیات نہیں بلکہ مندر اور مسجد چاہیے ؟ اگر ہم غور کریں گے تو ایک مختصر تعداد ہے جو لڑنا چاہتی ہے جو بنیادی سہولیات نہیں بلکہ عبادت گاہ چاہتی ہے لیکن عوامی رائے سے منتخب ہونے والی جمہوری حکومت کیا اس بادشاہی نظام حکومت جیسی نہیں ہے جہاں حکمراں، بادشاہ کی طرح اقتدار کے لئے عوام کو لڑواتے ہیں اور اقتدار پر اپنا قبضہ بنائے رکھنے کے لئے عوام کو مذہب کا نشہ دیتے ہیں ۔ صرف نام بدلا ہے طرز حکومت نہیں بدلی ۔

صحیح بات کہنے کے لئے سخت یا بھدے الفاظ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ میں نہ تو کسی ایسی مسجد کے حق میں ہوں اور نہ کسی ایسے مندر کے حق میں ہوں جس کی وجہ سے کسی ساڑھے تین سالہ بچے کی والدہ کو یہ تشویش ہو کے 26 سال پہلے ملک میں جو حیوانیت کا ننگا ناچ ہوا تھا وہ کہیں دوبارہ تو نہیں ہو گا ، اس کا بچہ اگر پکنک پر جائے گا تو محفوظ رہے گا یا نہیں ۔ اگر عبادت گاہ کو حاصل کرنے سے یہ ماحول پیدا ہوتا ہے تو پھر نہیں چاہیے ایسی کوئی عبادت گاہ اور ایسا کوئی مذہب ۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ایماندار جمہوری نظام قائم ہو اور اس نظام کے ذریعہ قائم ہونے والی حکومت عوام کے فلاح و بہبود کے لئے کام کرے ۔ اس کے لئے عوام کو بیدار ہو نا ہوگا اور سیاست دانوں اور کارپوریٹ گھرانوں کو اپنے درد کے لئے ذمہ دار ٹھہرانا بند کرنا ہو گا ۔ مذہب کا سیاسی استعمال بند ہونا چاہیے ۔ مذہب کا استعمال صرف کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسانے کے لئے ہونا چاہیے۔

گھر سے مسجد ہے بہت دور چلو یوں کر لیں

کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے