’ملک میں پیپر لیک نکسل کو ختم کرنے کی ضرورت‘، یو جی سی-نیٹ امتحانات کی منسوخی معاملہ پر کانگریس کا تلخ تبصرہ

ادے بھانو چِب نے کہا کہ جب جنتر منتر پر احتجاج ہو رہا تھا، اسی وقت راہل گاندھی نے کہا تھا کہ دھرمیندر پردھان کا ہٹنا پہلا قدم ہے، آخری نہیں، اور آج وہی ہو رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ادے بھانو چب اور ڈاکٹر چینیکا اُنیال پریس کانفرنس کرتے ہوئے، ویڈیو گریب</p></div>
i

یو جی سی نیٹ کے انگریزی، کامرس اور سماجیات کے امتحانات منسوخ کر کے انہیں دوبارہ کرانے کے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے اعلان کے بعد کانگریس نے مرکز کی مودی حکومت اور این ٹی اے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انڈین یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھانو چِب اور تاریخ کی استاد ڈاکٹر چینیکا اُنّیال نے ایک پریس کانفرنس کے دوران این ٹی اے کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے ذمہ دار افسران اور ماہرین کے خلاف کارروائی، ان کے نام عام کرنے اور طلبا کو ہونے والے نقصان کا معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

انڈین یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھانو چِب نے کہا کہ آج ملک میں ’پیپر لیک‘ نام کے نکسل کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یو جی سی نیٹ امتحان ہونے کے 2 ماہ بعد این ٹی اے کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور اس نے بتایا کہ 3 پرچے دوبارہ کرانے پڑیں گے۔ این ٹی اے کو یہ بتانے میں 2 ماہ لگ گئے۔ ایسے میں یہ بھی نہیں معلوم کہ مزید کتنی غلطیاں ہوں گی، جن کی وجہ سے بچوں کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ چِب نے طنزیہ انداز میں کہا کہ شاید بی جے پی حکومت ان غلطیوں کو قسطوں میں سامنے لانا چاہتی ہے تاکہ جین-زی کا غصہ مودی جی اور امت شاہ پر نہ نکلے۔


ادے بھانو چِب نے کہا کہ جب جنتر منتر پر احتجاج ہو رہا تھا، اسی وقت راہل گاندھی نے کہا تھا کہ دھرمیندر پردھان کا ہٹنا پہلا قدم ہے، آخری نہیں، اور آج وہی ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک پورے نظام میں جوابدہی نہیں ہوگی، اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں طلبا کے لیے تمام امتحانات کے فارم صرف ایک روپے میں بھرنے کی سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ ساتھ ہی چِب نے کہا کہ جب ملک کے نوجوان نریندر مودی اور امت شاہ سے جوابدہی کا مطالبہ کر رہے تھے، تو وہ 20 دنوں تک ایوان میں ہی نہیں آئے۔ ایسے میں ان سے جوابدہی کی کوئی امید نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کے تعلیمی نظام کو درست کرنا ان کے بس کی بات نہیں ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ جب اپنے دوست اڈانی کو ملک کی زمینیں دینی ہوتی ہیں تو نریندر مودی سے غلطیاں نہیں ہوتیں، لیکن طلبا کی بات آتے ہی مودی حکومت کی کارکردگی صفر ہو جاتی ہے۔

اس پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تاریخ کی استاد ڈاکٹر چینیکا اُنّیال نے کہا کہ وزارت تعلیم کو سمجھنا ہوگا کہ یہ معاملہ صرف سوالنامے اور جوابی کاپی سے متعلق نہیں ہے، بلکہ یہاں طلبا کے جذباتی اور مالی نقصان کا معاملہ بھی ہے۔ انہوں نے 3 امتحانات منسوخ کیے جانے کے بعد حکومت سے کئی سوالات کیے۔ انہوں نے پوچھا کہ اتنی سنگین غلطی کرنے والے افسران اور ماہرین کے خلاف کیا کارروائی ہوگی؟ جن افسران اور ماہرین کے خلاف کارروائی کی جائے گی، کیا ان کے نام عام کیے جائیں گے؟ کیا حکومت طلبا کو ہرجانہ دے گی؟ جن طلبا کے داخلے کی آخری تاریخ گزر چکی ہے، کیا حکومت انہیں کوئی معاوضہ دے گی؟


ڈاکٹر اُنیال نے کہا کہ جس نظام کی وجہ سے طلبا کا مستقبل برباد ہو رہا ہو، اس کے لیے جواب دینا نریندر مودی کی ذمہ داری ہے، کیونکہ طلبا ’چوہے‘ نہیں ہیں کہ حکومت ہر بار ان پر تجربہ کرتی رہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’این ٹی اے نے پریس ریلیز جاری کر تسلیم کیا ہے کہ یو جی سی نیٹ میں کوئی معمولی غلطی نہیں ہوئی ہے۔ اس میں سائنس دانوں کے ناموں کی اسپیلنگ غلط ہے، کتابوں کے عنوانات غلط ہیں اور تلفظ میں بھی غلطیاں ہیں۔‘‘ انھوں نے آگے کہا کہ ’’یہ غلطیاں اس پرچے میں ہوئی ہیں جس کی بنیاد پر طلبا کی اہلیت طے کی جاتی ہے۔‘‘ انھوں نے سوال اٹھایا کہ یہ پرچے تیار کرنے والے کون تھے؟ طلبا کے وقت کی قیمت کون ادا کرے گا؟ اسکرونٹی کس نے کی؟ تلفظ کی تصدیق کس نے کی اور حتمی منظوری کس نے دی؟ وہ واضح لفظوں میں کہتی ہیں کہ ’’اسے محض ایک بھول کہہ دینا درست ہوگا یا پھر یہ مان لیا جائے کہ پورا نظامِ امتحان ہی ناکام ہو چکا ہے۔ حکومت کو یہ جواب دینا چاہیے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔