این سی آر کو 23 جنوری کے بعد آلودگی سے راحت کی امید، بارش اور تیز ہواؤں کا الرٹ جاری
محکمۂ موسمیات کے مطابق 23 جنوری کے بعد این سی آر میں بارش اور تیز ہواؤں کے سبب فضائی آلودگی میں نمایاں کمی کا امکان ہے، تاہم اس کے بعد چند دن شدید سردی لوگوں کے لیے مشکل بن سکتی ہے

نئی دہلی: قومی راجدھانی خطہ این سی آر میں فضائی آلودگی سے پریشان لوگوں کے لیے ایک حد تک اطمینان بخش خبر سامنے آئی ہے۔ محکمۂ موسمیات کی تازہ پیش گوئی کے مطابق 23 جنوری کے بعد موسم میں واضح تبدیلی متوقع ہے، جس کے نتیجے میں آلودگی کی سطح میں کمی آ سکتی ہے۔ موسم کے اس بدلتے مزاج سے خاص طور پر دہلی، نوئیڈا، غازی آباد اور اطراف کے علاقوں میں ہوا کے معیار میں بہتری کی امید کی جا رہی ہے۔
محکمۂ موسمیات نے بتایا ہے کہ 23 جنوری کو این سی آر میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کا امکان ہے۔ اس دوران تیز ہوائیں بھی چل سکتی ہیں جن کی رفتار 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ ماہرین کے مطابق بارش اور ہواؤں کی یہ سرگرمی فضا میں موجود آلودہ ذرات کو صاف کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ اس دن زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت تقریباً 20 ڈگری سیلسیس اور کم سے کم درجۂ حرارت 10 ڈگری سیلسیس کے آس پاس رہنے کی توقع ہے۔
محکمۂ موسمیات کی وارننگ میں کہا گیا ہے کہ 23 جنوری کو صبح سے رات تک مختلف اوقات میں آندھی، بارش اور بجلی کڑکنے کا اثر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد 24 جنوری کو موسم مزید سرد ہو جائے گا اور کم سے کم درجۂ حرارت گھٹ کر تقریباً 7 ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتا ہے۔ اس دن ہلکے سے درمیانی درجے کا کہرا چھائے رہنے کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
اس سے قبل 21 اور 22 جنوری کو این سی آر میں کہرے کی صورتحال برقرار رہنے کی بات کہی گئی ہے، اگرچہ ان دنوں کسی بڑے موسمی انتباہ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ موجودہ وقت میں این سی آر کی ہوا انتہائی خراب درجے میں ہے۔ مختلف علاقوں میں فضائی معیار اشاریہ تین سو سے چار سو کے درمیان ریکارڈ کیا گیا ہے، جو صحت کے لیے نہایت نقصان دہ مانا جاتا ہے۔
ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ اگرچہ بارش اور تیز ہواؤں سے آلودگی میں عارضی کمی آئے گی، لیکن اس کے بعد دو سے تین دن شدید سردی لوگوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ ایسے حالات میں محکمۂ موسمیات نے شہریوں کو احتیاط برتنے، غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کرنے اور سردی سے بچاؤ کے مناسب انتظامات کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔