این سی ای آر ٹی تنازعہ: عدالتی پابندی کے بعد وزیر اعظم مودی کا اظہارِ برہمی، جے رام رمیش نے نیت پر اٹھایا سوال
این سی ای آر ٹی کی آٹھویں جماعت کی کتاب پر سپریم کورٹ کی پابندی کے بعد وزیر اعظم مودی نے ناراضی ظاہر کی، تاہم جے رام رمیش نے اسے محض دکھاوا قرار دیتے ہوئے نیت اور پورے نصابی عمل پر سوال اٹھائے

نئی دہلی: این سی ای آر ٹی کی آٹھویں جماعت کی سماجی علوم کی کتاب پر سپریم کورٹ کی مکمل پابندی کے بعد سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے اور کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ردعمل کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ جے رام رمیش نے کہا کہ اسرائیل میں اخلاقی کمزوری دکھانے کے بعد وزیر اعظم اب این سی ای آر ٹی کے معاملے پر ’فرضی برہمی’ ظاہر کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ سب کچھ محض نقصان پر قابو پانے کی کوشش ہے۔
جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران نصابی کتب میں منظم انداز میں نظریاتی تبدیلیاں کی گئیں اور یہ کوئی حادثاتی کوتاہی نہیں بلکہ ایک طے شدہ مہم کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر درسی کتاب میں عدلیہ سے متعلق مواد پر سپریم کورٹ کو اعتراض ہوا ہے تو اس کی ذمہ داری سے حکومت خود کو الگ نہیں کر سکتی۔ ان کے بقول وزیر اعظم یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں ہو سکتے کہ انہیں اس کی خبر نہیں تھی، کیونکہ نصابی ڈھانچے کی سمت اور پالیسی کی نگرانی حکومت ہی کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر واقعی وزیر اعظم کو اس مواد پر ناراضی ہے تو پھر یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ گزشتہ برسوں میں درسی کتب میں ہونے والی دیگر تبدیلیوں پر خاموشی کیوں اختیار کی گئی۔ جے رام رمیش نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کو اس پورے عمل کی جامع اور آزادانہ تحقیقات کرانی چاہئیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ نصابی مواد کس طرح تیار ہوا، کن مراحل سے گزرا اور کن سطحوں پر منظوری دی گئی۔
یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب کتاب کے باب ’ہمارے معاشرے میں عدلیہ کا کردار‘ میں عدلیہ کو درپیش چیلنجز کے طور پر بدعنوانی، مقدمات کے انبار اور ججوں کی کمی کا ذکر کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے اس مواد کو قابل اعتراض قرار دیا۔
تین رکنی بنچ، جس کی سربراہی چیف جسٹس سوریہ کانت کر رہے تھے، نے اسے عدلیہ کو بدنام کرنے کی ممکنہ منظم کوشش قرار دیا اور کتاب پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے تمام مطبوعہ اور ڈیجیٹل نسخے ضبط کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے این سی ای آر ٹی کے ڈائریکٹر اور محکمہ اسکولی تعلیم کے سکریٹری کو نوٹس بھی جاری کیا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے کابینہ کی میٹنگ میں اس معاملے پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا مواد آٹھویں جماعت کے طلبہ تک کیسے پہنچا۔ انہوں نے وزارت تعلیم کو ہدایت دی کہ فوری جانچ کر کے ذمہ داری طے کی جائے۔ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے بھی افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کے تئیں حکومت کا مکمل احترام ہے اور اس واقعہ کی جانچ کی جائے گی۔
این سی ای آر ٹی نے متنازع باب پر معذرت کرتے ہوئے ای نسخہ ویب سائٹ سے ہٹا دیا ہے۔ ادارے کے مطابق 2 لاکھ 25 ہزار مطبوعہ نسخوں میں سے صرف 38 فروخت ہوئے تھے اور انہیں واپس منگایا جا رہا ہے۔ متعلقہ باب کو ازسرنو تحریر کر کے تعلیمی سال 2026-27 سے نیا مسودہ جاری کیا جائے گا۔
تاہم جے رام رمیش کا کہنا ہے کہ اصل سوال محض ایک باب یا ایک کتاب کا نہیں بلکہ پورے نصابی عمل کی شفافیت اور نیت کا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جب تک مکمل اور غیر جانبدارانہ جانچ نہیں ہوگی، تب تک یہ تنازعہ ختم نہیں ہوگا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔