نواب ملک نے این سی بی افسر سمیر وانکھیڈے معاملے میں کیے مزید کچھ انکشافات

نواب ملک نے کہا ہے کہ وہ این سی بی کے ڈائریکٹر جنرل کو مکتوب لکھ کر ان سے درخواست کریں گے کہ معاملے کو بذات خود دیکھیں اور اس کی انکوائری کروائیں۔

نواب ملک اور سمیر وانکھیڈے، تصویر آئی اے این ایس
نواب ملک اور سمیر وانکھیڈے، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے ترجمان اور مہاراشٹر کے وزیر نواب ملک نے منگل کو نارکوٹکس کنٹرول بیوروکے زنل ڈائریکٹر سمیر وانکھیڈے کے برتھ سرٹیفکیٹ پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ملک نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ سمیر وانکھیڈے ایک مسلمان کمیونٹی میں پیدا ہوئے اور انہوں نے ایک مسلم لڑکی ڈاکٹر شبانہ سے شادی کی۔ بعد میں وانکھیڑے نے کرانتی ریڈکر نامی لڑکی سے شادی کرلی تاکہ وہ شیڈیول کاسٹ کو ملنے والی سرکاری اسکیموں کا فائدہ اٹھاسکیں۔ انہوں نے اپنی ذات تک بدل لی اور غریب لوگوں اور مستحقین کے حقوق غصب کرلیے۔

نواب ملک نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وانکھیڈے دو پرائیویٹ افراد کی مدد سے معروف شخصیات کے فون ٹیپ کرتے تھے اور معصوم وبے قصور لوگوں کو بلیک میل کیا کرتے تھے۔ این سی پی کے وزیر نے کہا کہ ان کے پاس تمام پرائیویٹ لوگوں کے شواہد، ان کے نام و پتے موجود ہیں اور کسی مناسب وقت پر اس کا انکشاف کریں گے۔

این سی پی لیڈر نے وانکھیڈے کے والد اور بہن (یاسمین وانکھیڈے) کو تعزیرات ہند کی دفعہ 499 کے تحت اپنے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے کا چیلنج کیا اور کہا کہ وہ اس کا سامنا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام شواہد عدالت کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ ملک نے کہا کہ ان کو ممبئی دفتر سے این سی بی کے ایک افسر کی جانب سے ایک نامعلوم مکتوب موصول ہوا ہے جس میں درج ہے کہ وانکھیڈے ایک ایسے افسران کے گروپ کا حصہ تھے جو بڑے لوگوں سے تاوان کی وصولی میں شامل رہا ہے۔ افسر نے 26 ایسے معاملے کا ذکر کیا ہے جس میں پیسے وصولے گئے تھے۔

نواب ملک نے کہا کہ وہ این سی بی کے ڈائریکٹر جنرل کو مکتوب لکھ کر ان سے درخواست کریں گے کہ معاملے کو بذات خود دیکھیں اور اس کی انکوائری کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا مکتوب انہوں نے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے، وزیر داخلہ دلیپ والیس پاٹیل اور ڈائریکٹر جنرل آف پولس سنجے پانڈے کو بھی ارسال کرچکے ہیں۔

دریں اثنا اتر پردیش پولیس نے آرین خان کیس میں کلیدی گواہ کرن پی گوساوی کو حراست میں لینے سے انکار کیا ہے۔ پونے کی ایک ٹیم گوساوی کو حراست میں لینے کے لیے لکھنؤ روانہ ہو چکی ہے جو دوسرے کئی معاملات میں پولس کو مطلوب ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔