قومی

کرتار پور کوریڈور: تقریب میں شامل ہونے کا پاکستانی دعوت نامہ سدھو نے کیا قبول

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر سدھو کو پاکستان مدعو کر کے ظاہر کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف ان کے دوست ہیں بلکہ پاکستان کے ذریعہ کرتار پور کوریڈور بنانے کے فیصلہ میں بھی سدھو کا مشورہ شامل ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

کرتار پور گرودوارہ کوریڈور بنائے جانے سے متعلق حکومت ہند کے فیصلہ کے بعد کئی لوگ ایسے ہیں جو یہ کہہ رہے ہیں کہ اس فیصلہ میں کانگریس لیڈر اور حکومت پنجاب میں وزیر نوجوت سنگھ سدھو کا کوئی رول نہیں ہے، لیکن پاکستان کی سوچ شاید ایسی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے پاکستانی علاقے میں کرتار پور کوریڈور کی سنگ بنیاد رکھنے کے موقع پر سدھو کو مدعو کیا ہے۔ نوجوت سنگھ سدھو نے اس دعوت نامہ کو بخوشی قبول بھی کر لیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس تاریخی تقریب کا حصہ بننا چاہتے ہیں اگر حکومت نے اجازت دی تو وہ ضرور پاکستان جائیں گے۔

دراصل سدھو کو عمران خان نے اپنی حلف برداری تقریب میں بھی مدعو کیا تھا اور وہیں سدھو نے کرتار پور گرودوارہ کے دروازے کھولنے کی بات رکھی تھی۔ اس تعلق سے ہندوستان میں سدھو کو زبردست تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا، لیکن اب جب کہ حکومت ہند نے بھی کرتار پور گرودوارہ جانے والے راستے کو کوریڈور کی شکل دینے کا فیصلہ لیا ہے تو سدھو مخالفین اسے صرف مودی حکومت کی کوششوں کا نتیجہ بتایا ہے۔ حالانکہ کوریڈور بنائے جانے کے مودی حکومت کے فیصلہ کے بعد نوجوت سنگھ سدھو نے مرکزی وزیر خارجہ سشما سوراج کو خط لکھ کر اس سلسلے میں شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ یہ دونوں ممالک کے لوگوں میں محبت اور رشتوں میں گرماہٹ لانے کا بھی کام کرے گا۔

بہر حال، نوجوت سنگھ سدھو نے پاکستان سے آئے دعوت نامہ کا تذکرہ کرتے ہوئے ہندوستانی میڈیا کو بتایا کہ ’’پاکستان کے وزیر اعظم دفتر سے میرے پاس فون آیا ہے۔ یہ وہی شخص تھے جنھوں نے مجھے پاکستانی پی ایم کی حلف برداری تقریب میں آنے کے لیے مدعو کیا تھا۔‘‘ سدھو نے پاکستان کی طرف سے بھیجے گئے دعوت نامہ پر مثبت رخ اختیا رکرتے ہوئے کہا کہ وہ وہاں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور حکومت ہند مجھے جانے کی اجازت دیتی ہے تو میں ضرور جاؤں گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ میں تاریخ کا حصہ بنوں۔ میرے لیے اس سے زیادہ خوشی کی بات کوئی دوسری نہیں ہوگی کہ میری پگڑی اس جگہ کو چھوئے گی جہاں گرو نانک دیو چلا کرتے تھے۔ یہی میرے والدین کی خواہش تھی جو پوری نہیں ہو پائی تھی۔‘‘

Published: 24 Nov 2018, 8:09 PM