بینک ہڑتال کو بجلی انجینئروں کی حمایت

شیلیندر دوبے نے کہا کہ بے روزگاری کے مشکل دور میں بینکوں کی نجکاری سے روزگار کے موقع بری طرح متاثر ہوں گے۔ نجی بینک کم از کم انسانی طاقت سے کام چلاتے ہیں اور ان کو شدید ذہنی دباؤ میں کام کرنا پڑتا ہے

بینکوں کی ہڑتال / Getty Images
بینکوں کی ہڑتال / Getty Images
user

یو این آئی

لکھنؤ: آل انڈیا انجینئرس فیڈریشن نے نجکاری کے خلاف میں 15 اور 16 مارچ کو ہونے والی دو روزہ بینک ہڑتال کی پرزور حمایت کرتے ہوئے وزیراعظم کو خط بھیج کر نجکاری کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ فیڈریشن کے چیئرمین شیلیندر دوبے نے اتوار کو کہا کہ عوامی شعبہ کے بینکوں کی نجکاری ایک عوام مخالفت قدم ہے۔ نجکاری غیر سماجی بھی ہے۔ بینکوں کو اب سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے نہیں بلکہ غلط طریقے سے نجی گھرانوں کو فائدے کی تلاش میں چلایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بے روزگاری کے مشکل دور میں بینکوں کی نجکاری سے روزگار کے موقع بری طرح متاثر ہوں گے۔ نجی بینک کم از کم انسانی طاقت سے کام چلاتے ہیں اور اہلکاروں کو شدید ذہنی دباؤ میں کام کرنا پڑتا ہے۔ بینکوں کی نجکاری سے عام لوگوں کو بھی کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان کی جمع رقم بھی محفوظ نہیں رہ پائے گی۔ انڈس انڈ بینک اور پی ایم سی بینک میں پیسہ ڈوبنے سے نجکاری کے نام پر عام لوگ کافی دہشت میں ہیں۔


اے آئی پی ای ایف نے کہا کہ عوامی شعبہ کے بینکوں کی نجکاری کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت نے بجلی کے شعبہ سمیت معیشت کے مختلف شعبوں کی نجکاری کے لئے وسیع پالیسی اپنائی ہے۔ اے آئی پی ای ایف نے مرکزی حکومتوں کی نجکاری پالیسی کی پر زور مخالفت کرتے ہوئے مرکز کے زیر انتظام سبھی علاقوں میں بجلی کی نجکاری کے فیصلے اور حال ہی میں بجلی ایکٹ 2003 میں ترمیم کے قدم سے نجی کمپنیوں کو ریاستوں کی تقسیم کے نظام میں داخل کرنے کی اجازت دی۔ اے آئی پی ای ایف نے مرکزی حکومت کی اس پالسی کی مذمت کی جو معیشت کے ہر شعبہ میں کام کرنے والے عوامی شعبہ کے پوری طرح خلاف ہے اور کارپوریٹ گھرانوں کے حق میں تیار کی گئی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔