نیشنل میڈیکل کمیشن بِل 2019 غریب مخالف، اسے واپس لیا جائے: اپوزیشن

بل کو بحث کےلئے پیش کرتے ہوئے صحت اور خاندانی فلاح و بہبود کے وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا کہ یہ بل ملک کےمیڈیکل شعبہ کی تاریخ میں بڑی اصلاحات میں سے ایک شمار کیا جائےگا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: لوک سبھا میں مکمل اپوزیشن نے انڈین میڈیکل کونسل(ایم سی آئی)کی جگہ لینے والے نیشنل میڈیکل کمیشن بل ،2019 کو غریب مخالف اور سماجی انصاف کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پیر کو اپوزیشن نے ایوان میں بل کو ڈاکٹروں کے حقوق کو کم کرنے والا بتایا اور کہا کہ حکومت نے ایم سی آئی سمیت مختلف آئینی اداروں کو کمزور کیا ہے۔

جبکہ بل کو بحث کےلئے پیش کرتے ہوئے صحت اور خاندانی فلاح و بہبود کے وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا کہ یہ بل ملک کےمیڈیکل شعبہ کی تاریخ میں بڑی اصلاحات میں سے ایک شمار کیا جائےگا۔انہوں نے کہا کہ اس بل کے ذریعہ سے ملک کے میڈیکل کالجوں میں گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کورسز کی سیٹوں کی تعداد کا تعین اور ان کی تقسیم یکساں طورپر کی جائےگی تاکہ ملک بھر میں سبھی جگہوں پرمناسب تعدادمیں سیٹیں مہیا ہوسکیں۔ایم بی بی ایس کی بیس ہزار اور پی جی کی 17ہزار سیٹیں ہوں گی۔

میڈیکل کی تعلیم مہنگی ہونے کے سوالات پر وزیر صحت نے کہا کہ ملک میں 75فیصد میڈیکل ایجوکیشن کی سیٹیں سستی فیس والی ہیں جبکہ نجی میڈیکل کالجوں میں مہنگی سیٹیں 25فیصد سے زیادہ نہیں ہیں۔ ڈاکٹر ہرش وردھن کے ذریعہ تقریباً آدھاگھنٹہ لئےجانے پر کانگریس کےلیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ اس بل پر بحث کےلئے چار گھنٹے کا وقت طے گیا گیا ہے۔چونکہ وزیر نے زیادہ وقت لے لیاہے،اس لئے اس وقت کو بحث کے تحت گنا نہیں جائے۔

بحث کی شروعات کرتے ہوئے کانگریس کے ونسینٹ پالا نے کہا کہ حکومت نے ایک طرف جہاں حق اطلاعات(آر ٹی آئی )قانون جیسے قوانین کو کمزور کیا ہے،وہیں ایم سی آئی اور ریزرو بینک آف انڈیا(آر بی آئی)جیسے آئینی اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ ونسینٹ پالا نے مجوزہ قانون کے تحت تین درجے کے بورڈ کے التزاموں پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کرتے ہوئے ان میں ڈاکٹروں کے رول کو نا کے برابر کیےجانے کی بھی تنقید کی۔انہوں نے کہا کہ بل کے کئی التزام مرکز اور ریاستوں کے درمیان تعاون پر مبنی وفاقیت کی روایت کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

Published: 29 Jul 2019, 9:10 PM