نیشنل ہیرالڈ کیس: عدالت نے ای ڈی کی شکایت پر نوٹس لینے سے کیا انکار، کانگریس نے کہا ’سچائی کی جیت ہوئی‘
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کانگریس نے لکھا کہ ’’سچائی کی جیت ہوئی ہے۔ مودی حکومت کی بدنیتی اور غیر قانونی طریقے سے کی گئی کارروائی پوری طرح بے نقاب ہو گئی ہے۔‘‘

دہلی کی ایک خصوصی عدالت نے منگل (16 دسمبر) کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی اس شکایت کا نوٹس لینے سے انکار کر دیا ہے، جس میں منی لانڈرنگ کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ دہلے کے راؤز ایونیو کورٹ کے خصوصی جج وشال گوگنے نے نیشنل ہیرالڈ معاملہ میں ای ڈی کی اس شکایت کا نوٹس لینے سے انکار کر دیا جو اس نے پری وینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ (پی ایم ایل اے) 2002 کی دفعہ 44 اور 45 کے تحت درج کی تھی۔
عدالت نے کہا کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈہ) انفورسمنٹ کیس انفارمیشن رپورٹ (ای سی آئی آر) درج نہیں کر سکتی اور نہ ہی بغیر ایف آئی آر کے منی لانڈرنگ معاملے کی تحقیقات شروع کی جا سکتی ہے۔ انفورسمنٹ کیس انفارمیشن رپورٹ ای ڈی کا ایک اندرونی دستاویز ہوتا ہے، جو پولیس ایف آئی آر جیسا ہوتا ہے، جسے ہندوستان کے پی ایم ایل اے ایکٹ کے تحت منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کرنے کے لیے رجسٹر کیا جاتا ہے۔
غور طلب ہے کہ ای ڈی نے کانگریس لیڈر سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور دیگر کے خلاف بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی کی ذاتی شکایت کی بنیاد پر تحقیقات شروع کی تھی۔ واضح رہے کہ موجودہ مودی حکومت نے 2019 میں پی ایم ایل اے ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے ایجنسیوں کو ذاتی شکایات کی بنیاد پر تحقیقات کرنے کا اختیار دے دیا تھا۔ لیکن عدالت نے کہا کہ نیشنل ہیرالڈ کا معاملہ پہلے سے ہی درج ہے اور اس میں کوئی ایف آئی آر بھی نہیں ہے، ساتھ ہی کسی بھی مجاز ایجنسی کی طرف سے کوئی شکایت بھی درج نہیں ہوئی ہے۔ اس کمی کو دور کرنے کے لیے اور پہلے کے معاملہ کو مضبوط کرنے کے لیے ای ڈی نے 2025 میں مبینہ دھوکہ دہی کے لیے ایک نئی ایف آئی آر درج کی، جسے کمزور مانا جا رہا تھا۔
ای ڈی کی تاریخ میں نیشنل ہیرالڈ کیس پہلا ایسا معاملہ بتایا جا رہا ہے، جس میں ایجنسی نے بغیر کسی ایف آئی آر کے صرف ایک نجی شکایت پر منی لانڈرنگ کی جانچ شروع کی۔ ای ڈی نے دراصل 14 جنوری 2015 کے اپنے ہی ’ٹیکنیکل سرکولر نمبر 01/2015‘ کو نظر انداز کیا، جس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ ’’ای سی آئی آر درج کرنے کے لیے، سی آر پی سی کی دفعہ 154 کے تحت ایف آئی آر اور سی آر پی سی کی ہی دفعہ 157 کے تحت اسے مجسٹریٹ کو بھیجنا ضروری ہے۔‘‘ اس وقت کے ای ڈی ڈائریکٹر نے مبینہ طور پر غلط کام کا کوئی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے مقدمہ چلانے کی منظوری دینے سے انکار کر دیا تھا۔ لیکن حکومت نے ان کا تبادلہ کر دیا اور اگلے ڈائریکٹر نے مقدمہ چلانے کی منظوری دے کر حکومت کی بات مان لی۔
در اصل تنازعہ 2010 کا ہے اور یہ بند ہو چکے روزنامہ ’نیشنل ہیرالڈ‘ اخبار کے پبلشر ایسوسی ایٹڈ جرنلز لمیٹڈ (اے جے ایل) کو ایک نئی نان پرافٹ ہولڈنگ کمپنی ’ینگ انڈین پرائیویٹ لمیٹڈ (وائی آئی ایل) کے ذریعے حاصل کیے جانے سے متعلق ہے۔ 2014 میں شروع ہوئی ای ڈی کی 10 سال طویل تحقیقات میں الزام لگایا گیا تھا کہ اے جے ایل کے اثاثوں کا غلط استعمال کر کے ذاتی فائدہ اٹھانے کا ایک منصوبہ بنایا گیا تھا۔ اے جے ایل کی طرف سے اس بارے میں عدالت میں دلیل دی گئی کہ پبلشنگ کمپنی کے پاس اب بھی اس کے تمام اثاثے موجود ہیں اور وائی آئی ایل کو کوئی پیسہ نہیں دیا گیا ہے، جو ویسے بھی ایک نان پرافٹ کمپنی ہونے کے ناطے کوئی ڈیویڈنڈ پانے کی حقدار نہیں ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، ای ڈی اس حکم کے خلاف اپیل کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ عدالتی حکم کی تفصیلی کاپی کا انتظار ہے۔
کانگریس پارٹی نے اس معاملے پر اپنے پہلے ردعمل میں اسے سچائی کی جیت قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کانگریس نے کہا کہ ’’سچائی کی جیت ہوئی ہے۔ مودی حکومت کی بدنیتی اور غیر قانونی طریقے سے کی گئی کارروائی پوری طرح بے نقاب ہو گئی ہے۔ معزز عدالت نے ینگ انڈین کیس میں کانگریس قیادت - سونیا گاندھی جی اور راہل گاندھی جی کے خلاف ای ڈی کی کارروائی کو غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی پایا ہے۔ عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ ای ڈی کا معاملہ دائرہ اختیار سے باہر ہے، اس کے پاس کوئی ایف آئی آر نہیں ہے جس کے بغیر کوئی کیس بن ہی نہیں سکتا۔ مودی حکومت کی جانب سے گزشتہ ایک دہائی سے اہم اپوزیشن پارٹی کے خلاف سیاسی انتقام اور بدلے کے جذبے سے کی جانے والی یہ کارروائی آج پورے ملک کے سامنے بے نقاب ہو گئی ہے۔ منی لانڈرنگ کا کوئی معاملہ نہیں، جرم کی کوئی کمائی نہیں اور اثاثوں کی کوئی منتقلی نہیں- یہ تمام بے بنیاد الزامات جو گھٹیا سیاست، بغض اور وقار پر حملہ کرنے کے جذبے سے متاثر ہیں آج ختم ہو گئے ہیں۔ کانگریس پارٹی اور ہماری قیادت سچائی کے لیے اور ہر ہندوستانی کے حقوق کے لیے لڑنے کے لیے پرعزم ہے- ہمیں کوئی ڈرا نہیں سکتا- کیونکہ ہم سچائی کے لیے لڑتے ہیں۔‘‘ ستیہ میو جیتے
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔