’کرتار پور راہداری کے قریب ہندوستان اور پاکستان کے قومی پرچم لہرایا جانا مناسب نہیں‘

پنجاب اسمبلی کے سابق اسپیکر ویر دیوندر سنگھ نے کہا کہ شری کرتار پور صاحب راہداری میں ہندوستان اور پاکستان اپنی سرحد کے قریب قومی پرچم لہرانے کے خیال کو ترک کردے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

جالندھر: پنجاب اسمبلی کے سابق اسپیکر ویر دیوندر سنگھ نے کہا کہ شری کرتار پور صاحب راہداری میں ہندوستان اور پاکستان اپنی سرحد کے قریب قومی پرچم لہرانے کے خیال کو ترک کردے۔

سنگھ نے وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو خط لکھ کر کہا کہ سکھ برادری سکھ عقیدت مندوں کو ڈیرہ بابا نانک سے گردوارہ کرتار پور صاحب تک مفت داخلے کے لئے مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ حکومت پاکستان کی کوششوں کو سراہتی ہے۔

انہوں نے مودی کو لکھے گئے خط میں کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک جرات مندانہ اقدام ہے اور اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ ہم گرو نانک دیو کے 550 ویں پرکاش اتسو پر اس بین الاقوامی راہداری کے افتتاح کے ساتھ منانے جارہے ہیں۔

سابق اسپیکر نے کہا کہ قومی پرچم یقینی طور پر خودمختاری کی علامت ہے ، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ کوئی بھی شہری اسے فخر کے احساس سے دیکھتا ہے۔ اس کے علاوہ ہم جارحانہ طور پر مسابقتی والی خودمختاری والی دنیا میں رہتے ہیں۔ہندوستان کے 300 فٹ اونچے قومی پرچم کے سامنے پاکستان کا 301 فٹ اونچا پرچم لہرانا مناسب نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ شری کرتار پور صاحب میں ایک بہت بڑا ترنگا لہرانے کے خیال کو ترک کیا جانا چاہئے ، جو گرو نانک کے فلسفہ اور تعلیمات کی عظمت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک اچھا اقدام ہوگا۔

next