ملازمین سے متعلق تازہ حکومتی احکامات تاناشاہی پر مبنی: نیشنل کانفرنس

چند انتظامی افسران پر مشتمل پینل کسی بھی ملازم کو برخواست کرسکتی ہے اور برطرف شدہ ملازمین کو عدالت میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا حق بھی نہیں دیا گیا ہے۔

علامتی فائل تصویر آئی اے این ایس
علامتی فائل تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نیشنل کانفرنس نے حکومت کی طرف سے ملازمین سے متعلق تازہ احکامات کو تاناشاہی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی احکامات کا مطالع کرنے سے صاف طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں جمہوریت نہیں بلکہ ڈکٹیٹرانہ نظام مسلط ہے۔

پارٹی کے ترجمان عمران نبی ڈار نے اپنے ایک بیان میں جموں و کشمیر حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے تازہ احکامات کو یہاں کے ملازمین کی ملازمتیں چھینے کا ایک اور حربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب اُس بڑے منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت یہاں کے لوگوں کو ہر سطح پر محتاج بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال سے جاری ایسے کئی حکومتی احکامات کی رو سے چند انتظامی افسران پر مشتمل پینل کسی بھی ملازم کو برخواست کرسکتی ہے اور برطرف شدہ ملازمین کو عدالت میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا حق بھی نہیں دیا گیا ہے۔


ترجمان نے کہا کہ کسی باشندے کو عدالت میں جانے سے روکنا ایک جمہوری نظام کا حصہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک انتہائی تشویشناک رجحان ہے اور نیشنل کانفرنس ان اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور اسے جموں و کشمیر کے عوام کو اندھیروں میں دھکیلنے کا ایک اور مذموم حربہ مانتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملازمین کی برطرفی ایک منصوبہ بند سازش کا حصہ ہے، اس سے قبل گزشتہ سال ایک اور حکم نامہ کے ذریعے حکومت کو اس بات کا مجاز بنایا گیا کہ وہ ملازمین کو 48 سال کی عمر میں سبکدوش کر سکتی ہے۔ اسی منصوبے کے تحت سینکڑوں سیلف ہیلپ گروپ انجینئروں اور درجنوں سرکاری ملازمین کو برطرف کیا گیا اور گزشتہ دنوں 912 آئی سی ڈی ایس ہیلپروں سے بھی نوکریاں چھین لی گئیں۔ اس طرز عمل سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نئی دلی جموں و کشمیر کے عوام کو اندھیروں میں دھکیل کر محتاج بنانے پر تلی ہوئی ہے۔


عمران نبی ڈار نے کہا ایک طرف کشمیری نوجوانوں کے لئے سرکاری نوکریوں کے دروازے غیر اعلانیہ طور پر بند کر دیئے گئے ہیں جبکہ دوسری جانب ملازمین کو نکالنے کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے۔
انہوں نے مرکزی حکومت کو خبردار کیا کہ جموں و کشمیر میں روا رکھی گئی ناانصافیوں، امتیازی سلوک اور انتقام گیری کی پالیسی کو ترک کیا جائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔