اجمیر شریف درگاہ کے دیوان کا ’پاک مقبوضہ کشمیر‘ سے متعلق دیا گیا بیان وائرل

اجمیر شریف درگاہ کے دیوان سید زین العابدین علی خان نے حکومت ہند سے اپیل کی ہے کہ پاکستانی قبضے والے کشمیر کو ہندوستان میں ضم کرنے کے لیے جو بھی مناسب قدم ہو، وہ ضرور اٹھائے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

اجمیر شریف درگاہ کے دیوان سید زین العابدین علی خان نے پاک مقبوضہ کشمیر یعنی پاکستان کے قبضے والے کشمیر سے متعلق ایک بڑا بیان دیا ہے جو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہو رہا ہے۔ دراصل پاک مقبوضہ کشمیر پر ہندوستانی فوجی سربراہ ایم ایم نروانے کے ذریعہ ایک بیان دیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر ہدایت ملی تو وہ پاکستان کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔ اسی بیان کا استقبال کرتے ہوئے اجمیر شریف کے دیوان نے بیان دیتے ہوئے حکومت ہند سے اپیل کی ہے کہ پاکستانی قبضے والے کشمیر کے ہندوستان میں ضم کرنے کے لیے جو بھی مناسب قدم ہو، وہ ضرور اٹھائے اور ہندوستانی فوج کو اس تعلق سے ضروری ہدایت بھی دی جائے۔

سوشل میڈیا پر سید زین العابدین علی خان کا اس بیان پر مبنی ویڈیو وائرل ہو رہا ہے۔ ویڈیو میں وہ کہتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ ’’ہر ذات اور پنتھ سے ہر کوئی ہندوستانی فوج کے ساتھ کھڑا ہے۔ پاک مقبوضہ کشمیر ہمیشہ سے ہی ہندوستان کا حصہ رہا ہے... یہاں تک کہ 1948 سے لے کر ابھی تک بھی اور مستقبل میں بھی یہ ہندوستان کا ہی رہے گا۔‘‘

واضح رہے کہ جنرل نروانے کے ذریعہ ہفتہ کے روز کہا گیا تھا کہ اگر پارلیمنٹ چاہے، تو ہندوستانی فوج پاکستان کے قبضے والے کشمیر کو ہندوستان میں ملانے کے لیے پوری طرح سے تیار ہے۔ اس کے بعد اجمیر شریف درگاہ کے دیوان نے اتوار کو یہ بیان دیا جو پیر کے روز خوب وائرل ہوا۔

ویڈیو میں دیوان یہ بھی کہتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ ’’اگر ہندوستانی فوج تیار ہے تو ہم کس بات کا انتظار کر رہے ہیں؟ میں ہندوستانی فوجی سربراہ کے بیان سے بہت خوش ہوں۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’حکومت ہند کو چاہیے کہ 1994 میں پاس ہوئے قرارداد پر عمل کرے، جس میں کہا گیا ہے کہ پاک مقبوضہ کشمیر کو کشمیر کے ساتھ ضم کیا جائے۔‘‘

دیوان سید زین العابدین علی خان ویڈیو میں یہ کہتے ہوئے بھی نظر آ رہے ہیں کہ ’’میں حکومت ہند سے درخواست کرتا ہوں کہ پاک مقبوضہ کشمیر کو ہندوستان میں ضم کرنے کے لیے جو بھی مناسب قدم ہو وہ اٹھائے۔ وہ ہندوستانی فوج کو ہدایت دے تاکہ ہندوستان کے لوگوں کو متحدہ کشمیر کی شکل میں ایک تحفہ ھاصل ہو۔‘‘