ملک گیر احتجاج: ’شاہین باغ کی دبنگ دادیوں کو گمراہ کر کے ایل جی کے پاس لے جایا گیا‘

شاہین باغ مظاہرین انتظامیہ نے اپنے بیان میں کہا کہ دبنگ دادیوں کو گمراہ کر کے ایل جی سے ملاقات کرائی گئی تھی اور جو لوگ انہیں وہاں لے کر گئے تھے وہ شاہین باغ خواتین مظاہرین کی نمائندگی نہیں کرتے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ مظاہرین انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ احتجاج جاری رہے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دبنگ دادیوں کو گمراہ کر کے لیفٹننٹ گورنر سے ملاقات کرائی گئی تھی اور جو لوگ انہیں وہاں لے کر گئے تھے وہ شاہین باغ خواتین مظاہرین کی نمائندگی نہیں کرتے۔

انتظامیہ کے ذرائع نے بتایا کہ یہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی سازش تھی اور اس میں وہ لوگ بہت دنوں سے لگے ہوئے تھے لیکن وہ اب تک کامیاب نہ ہو سکے تھے لیکن گمراہ کرکے دبنگ دادیوں میں سے دو کو ساتھ لے جانے میں کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ دادیوں میں اسماء جو 90 سال کی ہیں وہ نہیں گئی تھیں۔ انہیں جو دو افراد لے گئے تھے ان کا تعلق بی جے پی سے رہا ہے اور وہ بی جے پی کے اشارے پر ہی ان لوگوں کو ایل جی کے پاس لے گئے تھے تاکہ احتجاج کے تعلق سے غلط پیغام دیا جا سکے۔

شاہین باغ کی دبنگ دادیاں
شاہین باغ کی دبنگ دادیاں

انہوں نے کہا کہ شاہین باغ میں خواتین کا مظاہرہ حسب سابق جاری ہے اور جاری رہے گا اس میں کسی طرح کی کوئی تردد نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ عوامی تحریک ہے، عوامی طور پر چلائی جارہی ہے اور اس کے پیچھے کوئی تنظیم یا پارٹی نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ اپنی تحریک کے سلسلے میں کسی طرح کی سازش کو ناکام نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی میڈیا کو کسی طرح کی افواہ پھیلانے کی اجازت دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جہاں اسکول اور ایمبولینس گاڑیوں کے گزرنے کا سوال ہے تو مظاہرہ کے دوران بھی اسکول بس، ایمبولینس اور ایمرجینسی گاڑیاں گزر رہی تھیں اور آگے بھی گزرتی رہیں گی۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے رضاکار رضاکارانہ طور پر ان گاڑیوں راستے دیتے اور گزارتے رہے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جس سڑک پر دھرنا مظاہرہ جاری ہے اسے کسی بھی طرح کھولنے کے حق میں نہیں ہیں۔

ملک گیر احتجاج: ’شاہین باغ کی دبنگ دادیوں کو گمراہ کر کے ایل جی کے پاس لے جایا گیا‘

واضح رہے کہ کل دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل نے شہریت (ترمیمی) قانون (سی اے اے) اور قومی شہریت رجسٹر (این آر سی) کے خلاف مظاہرہ کر رہی خواتین سے تحریک واپس لینے کی اپیل کی۔ انل بیجل نے شاہین باغ مظاہرے کے مقام سے سات سات افراد کے وفد سے یہاں گورنر ہاؤس میں ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ مظاہرے کی وجہ سے جنوبی دہلی کو نوئیڈا سے جوڑنے والی اہم شاہراہ پر گزشتہ ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے ٹریفک بند ہے جس کی وجہ اسکول کے بچوں، مریضوں اور روزمرہ کے مسافروں کو کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انل بیجل نے لوگوں پر زور دیا تھاکہ لوگوں کو ہونے والی مشکلات کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ مظاہرے کو ختم کر دیں۔ اس ملاقات کے دوران مظاہرین اس بات پر متفق ہو گئے ہیں کہ اسکول بسوں کو گزرنے کا راستہ دیا جائے گا۔ ایمبولینسوں کے لئے پہلے سے ہی راستہ دیا ہوا ہے۔

سپریم کورٹ میں قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف بدھ کے روز سماعت ہونے اور اس معاملہ کو چار ہفتے کے لئے ٹال دینے کے معاملہ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے دبنگ دادیوں اور خاتون مظاہرین نے کہا کہ اس تحریک کو تیز کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اس قانون پر روک نہیں لگائی جاتی اس وقت تک یہ دھرنا مظاہرہ جاری رہے گا اور ہم لوگ یہاں سے نہیں ہٹیں گی۔ دبنگ دادیوں نے کہا کہ ہم خواتین کو 40 دن ہوگئے اور سپریم کورٹ نے چار ہفتے تک کا ہی وقت بڑھایا ہے، اس کا انتظار کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے ہمیں سڑکوں پر بٹھاد یا ہے اور جب وہ واپس نہیں لیں گے ہم نہیں ہٹیں گے۔

خاتون مظاہرین نے سپریم کورٹ کے چار ہفتے بڑھانے پر کہاکہ ایک سال تو کیا کورٹ چار سال بھی بڑھا دے تو کوئی غم نہیں ہم چار سال تک یہاں بیٹھی رہیں گی۔ جب تک فیصلہ ہمارے حق میں نہیں آجاتا۔ مظاہرین نے کہاکہ کورٹ نے مدت بڑھاکر ہمیں تحریک تیز کرنے کا موقع دیا ہے اور ہم مضبوطی کے ساتھ اس تحریک کو آگے بڑھائیں گے۔

خوریجی کا دھرنا
خوریجی کا دھرنا

خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے سپریم کورٹ کی مدت بڑھائے جانے پر کہا کہ ہمارا اس سے حوصلہ کم نہیں ہوگا۔ ہم مزید شدت کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے قومی شہریت ترمیمی قانون کو سیاہ اور خلاف آئین قرار دیتے ہوئے کہاکہ شاہین باغ کے بعد خاتون مظاہرین کا جوش و خروش خوریجی میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔انہوں نے کہاکہ خوریجی میں کل رات کئی اہم شخصیات نے شرکت کرکے خواتین کا حوصلہ بڑھایا۔ یہاں ڈوٹا لیڈر نندتا، سلمان نظامی، افاق حیدر کے علاوہ ایڈویکیٹ محمود پراچہ نے بھی خاتون مظاہرین سے خطاب کیا۔

ایڈووکیٹ محمود پراچہ نے مظاہرے کو پرامن طریقے سے جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے حالیہ قومی سلامتی ایکٹ کا ذکر کیا اور نوجوانوں سے کہاکہ وہ کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے آپ کے دھرنے کو نقصان پہنچے۔انہوں نے کہاکہ آپ کے پرامن مظاہرے کو پولیس کبھی بھی نقصان پہچانے کی کوشش نہیں کرے گی۔ ڈوٹا لیڈرمحترمہ نندتا نے کہاکہ وہ خوریجی خواتین سے حوصلہ لینے آئی ہیں کس طرح نامساعدحالات میں اپنی بات پر قائم رہتے ہوئے مظاہرہ کیا جاتا ہے۔

ادھر، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں 15 دسمبر سے جاری مظاہرہ بدھ کو بھی جاری رہا، اہم لوگوں کی شرکت نے اسے بہت اہم بنا دیا ہے۔ یہاں بھی 24 گھنٹے کا دھرنا جاری ہے۔ اس کے علاوہ دہلی میں خواتین مظاہرین کا دائرہ پھیل گیا ہے اور اس فہرست میں ہر روز نئی جگہ جڑ رہی ہے اور خواتین کے ساتھ مرد بھی مظاہرے کرنے کے نئے نئے انداز اپناتے ہیں۔ اس وقت دہلی میں سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ،بلی ماران، کھجوری، مصطفی آباد، کردم پوری، شاشتری پارک اورجامع مسجدسمت ملک تقریباً سو کے آس پاس مقامات پر مظاہرے ہورہے ہیں۔

جامعہ کا حتجاج
جامعہ کا حتجاج

دہلی کے بعد سب سے زیادہ شدت سے قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف بہار سے آوازیں اٹھ رہی ہیں اور وہاں ہر روز نئی جگہ جڑ رہی ہے اور بہار درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29 دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور یہاں خواتین کی بڑی تعداد ہے۔ اس کے بعد سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ’سیوان، بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، سمستی پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی علاقے میں، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور بہت سے ہندو نوجوان مسلمانوں کی حفاظت کرتے نظر آئے۔

بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں نرسوں سے شروع ہوئے احتجاجی دھرناکے دوسرے دن بڑی تعداد میں مرداورعورتوں نے شرکت کرکے این آر سی، سی اے اے اور این آر پی کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کیا۔آج کے دھرنے کے خاص مقرر اورسابق ممبرپارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پپو یادو نے مرکزی حکومت کے رویہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی اور شاہ ملک کو گہرے کنویں میں دھکیل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان گنگا جمنی تہذیب کا وہ انوکھا سنگم ہے جہاں کی ثقافت لنگی اور گنجی ہے جسے ہندو اور مسلمان سبھی پہنتے ہیں مگر ہمارے وزیراعظم اس میں بھی ہندو اور مسلمان ڈھونڈ لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کہ ملک سے محبت کرنے والوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کرا لیجئے اگر ہمارا ڈی این اے ہندوستان کا ہے تو آپ پھر ہم سے کوئی سرٹیفکیٹ مانگنا بند کر دیجئے. ہم اسی مٹی کے ہیں اور یہ مسلمان جو حضرت محمد کے امن کے راستے پر چلنے اور حضرت حسین کے قربانی کا جذبہ رکھنے والے وطن کے لئے اپنی جان نچھاور کو تیار رہتے ہیں۔آج کے دھرنے کی اہم بات چودھری سیف صلاح الدین کا دھرنے میں پہنچ کر اعلان کرنا کہ جب تک دھرنا چلے گا وہ اس میں شامل رہیں گے اور انہوں نے اس قانون کی کھل کر مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس لڑائی میں وہ آپ کے ساتھ ہیں۔اسی کے ساتھ ہریانہ کے یمنا نگر اور میوات کے علاقے میں بھی خواتین نے مظاہرہ شروع کردیا ہے۔

مغربی بنگال میں متعدد مقامات سمیت کولکاتہ کے پارک سرکس میں خواتین سخت پریشانیوں کے باوجود اپنا مظاہرہ جاری رکھا۔ انتظامیہ سہولت کی لائن کاٹ کر دھرنا کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی لیکن خواتین کے عزم و حوصلہ کے سامنے وہ ٹک نہیں سکی۔لکھنو میں خواتین نے قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف مظاہرہ شروع کردیا ہے۔

ادھر، اتر پردیش میں 19دسمبر کو احتجاج کے بعد تشدد کی وجہ سے احتجاج پوری طرح بند تھا اور رات میں بھی پولیس نے خواتین کو بھگانے کی کوشش کی لیکن خواتین ڈٹی رہیں۔ تقریباً 160سے زائد خواتین پر ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود آج ہزاروں کی تعداد میں خواتین مطاہرہ کر رہی ہیں۔یہاں کی خواتین کی جانفشانی کا یہ عالم ہے کہ کھلے آسمان کے نیچے سخت سردی کے عالم بغیر کمبل اور روشنی کے مظاہرہ کررہی ہیں۔ پولیس نے یہاں ٹینٹ لگانے کی اجازت نہیں دی ہے۔ خواتین موبائل کی روشنی سے احتجاج کی روشنی پوری دنیا میں پہنچارہی ہیں۔اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد کی خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا تھا جہاں آج بھی مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔اسی کے مؤ سے بھی دھرنا کی خبریں موصول ہورہی ہیں۔ سہارنپور‘ دیوبند اور دیگر مقامات پر خواتین اس کالا قانون کے خلاف ڈتی ہوئی ہیں۔ ان مظاہرے کی اہم بات یہ ہے کہ اس کے پس پشت نہ کوئی پارٹی ہے اور نہ ہی کوئی بڑی تنظیم، جو کچھ بھی آتا ہے وہ رضاکارانہ طور پر آتا ہے اور عام لوگ ضرورت چیزیں خواتین کو پہنچاتے ہیں۔

شاہین باغ-دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ ’دہلی،۔آرام پارک خوریجی-دہلی ’۔سیلم پور فروٹ مارکیٹ،دہلی،۔جامع مسجد - دہلی،ترکمان گیٹ، دہلی،ترکمان گیٹ دہلی، بلی ماران دہلی، شاشتری پارک دہلی، کردم پوری دہلی، مصطفی آباد دہلی،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار‘۔سبزی باغ پٹنہ - بہار، ہارون نگر،پٹنہ’۔شانتی باغی گیا بہار،۔مظفرپور بہار،۔ارریہ سیمانچل بہار،۔بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،۔مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،۔مغلا خار انصارنگر نوادہ بہار،۔مدھوبنی بہار،۔سیتامڑھی بہار،۔سیوان بہار،۔گوپالگنج بہار،۔کلکٹریٹ بتیا مغربی چمپارن بہار،۔ہردیا چوک دیوراج بہار،۔ نرکٹیاگنج بہار، رکسول بہار، دھولیہ مہاراشٹر،۔ناندیڑ مہاراشٹر،۔ہنگولی مہاراشٹر،پرمانی مہاراشٹر،۔ آکولہ مہاراشٹر،۔ پوسد مہاراشٹر،۔کونڈوامہاراشٹر،۔پونہ مہاراشٹر۔ستیہ نند ہاسپٹل مہاراشٹر،۔سرکس پارک کلکتہ،۔قاضی نذرل باغ مغربی بنگال،۔اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،35۔روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپور-یوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،۔کوٹہ راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش،، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ اندور،احمد آباد گجرات، منگلور کرناٹک، ہریانہ کے میوات اور یمنانگر اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی دھرنا جاری ہے۔

Published: 22 Jan 2020, 8:11 PM