ہندوتوا کو ’دھار‘ دینے کی کوشش میں مودی حکومت نے معیشت کو کیا تباہ: جاپانی رسالہ

جاپان کے ایک رسالہ ’ایشین نکیئی‘ نے مودی حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایک مضمون شائع کیا ہے۔ اس مضمون میں لکھا گیا ہے کہ پی ایم مودی الیکشن ضرور جیتے لیکن معیشت تباہ ہو گئی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ہندوستان کی معاشی حالت انتہائی بدتر ہے اور اس پر مودی حکومت سے لگاتار سوال پوچھے جا رہے ہیں۔ معاشی امور کے ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ مودی حکومت میں ملک کی معاشی حالت بہت خراب ہوئی ہے۔ ہندوستانی معیشت کے تعلق سے خبریں ملک ہی نہیں بلکہ بیرون ممالک میں بھی شائع ہوتی رہی ہیں۔ اب جاپان کے ایک اقتصادی رسالہ ’ایشین نکیئی‘ نے مودی حکومت کو اس کی خراب معاشی پالیسیوں کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ رسالہ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ’’بھلے ہی پی ایم مودی انتخاب جیتنے میں کامیاب رہے ہیں، لیکن ہندوستان کی معیشت بے حد خراب ہو گئی ہے، حالت بہت خستہ ہے۔‘‘

کالم نگار ہینی سینڈر نے مودی حکومت کے بارے میں مضمون ’ایشین نکیئی‘ رسالہ میں لکھا ہے۔ انھوں نے اپنے مضمون میں تذکرہ کیا ہے کہ پی ایم مودی نے 2014 میں ملک کو گجرات جیسی ترقی دینے کا وعدہ کر کے اقتدار حاصل کیا تھا۔ حالانکہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسے فیصلے لینے کی وجہ سے ترقی کی جگہ گراوٹ دیکھنے کو ملی۔

رسالہ میں مودی حکومت پر بے حد ہی سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس مضمون میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی جگہ ہندوتوا کے ایجنڈے کو ’دھار‘ دینے میں لگی ہوئی ہے۔ اس میں مزید لکھا گیا ہے کہ ’’عوامی مینڈیٹ کا استعمال معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی جگہ مودی حکومت نے ہندوتوا کے ایجنڈے کو دوہرا کر دیا۔ ہندوتوا کو ہی ملک کی شناخت کے مرکز میں رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے جموں و کشمیر کا خصوصی ریاست کا درجہ ختم کیا گیا اور شہریت قانون میں ترمیم کی گئی۔‘‘ رسالہ نے کہا ہے کہ حکومت کے تمام فیصلوں میں بڑی سماجی تبدیلی کی بات کی گئی، لیکن معیشت کے مسئلے کو کنارے ہی لگا دیا گیا۔

اس مضمون میں ہندوستان میں طلب میں تیزی سے آ رہی کمی کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ رسالہ نے فوڈ کمپنی نسین فوڈس کے انڈیا آپریشن ہیڈ گوتم شرما کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’’ملک کا صارف اپنے خرچ میں تخفیف کرنے کو مجبور ہے۔ ہر چیز کی فروخت میں کمی آئی ہے۔ دیہی ہندوستان کی بات کریں تو ٹریکٹر سے لے کر میگی اور شیمپو کے پاؤچ تک کی ڈیمانڈ کم ہوئی ہے۔‘‘ گوتم شرما کے مطابق ’’لوگ تب چیزوں کا استعمال کرتے ہیں جب انھیں اپنا مستقبل محفوظ لگے، لیکن حکومت نے ان کے بھروسے کو ختم کر دیا ہے۔‘‘ مضمون میں آٹو موبائل سیکٹر سے لے کر ریلٹی تک کی بات کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سرمایہ کاروں کا بھروسہ ختم ہو گیا ہے اور جی ڈی پی میں پرائیویٹ انویسٹمنٹ کی شراکت داری ذیلی سطح پر جا پہنچی ہے۔

مضمون میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت اپنے زیادہ تر فیصلے انتخاب کو دھیان میں رکھ کر کرتی رہی ہے۔ رسالہ میں نوٹ بندی پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔ مضمون میں لکھا گیا ہے کہ ’’نومبر 2016 میں بلیک منی پر لگام کسنے کے نام پر کیش میں 90 فیصد حصہ داری رکھنے والے 500 اور 1000 روپے کے نوٹوں کی اہمیت ختم کر دی گئی تھی۔ حالانکہ اس سے برعکس اثر ہوا اور کیش پر منحصر رہنے والے ہندوستانیوں کے پاس خرچ کے لیے رقم کی کمی ہو گئی۔ اس کی وجہ سے ملک کی معاشی حالت خراب ہوتی چلی گئی۔‘‘

next