نریندر مودی آسام میں ’ڈبل انجن‘ کی جگہ ’ڈبل غلامی‘ کی حکومت چلا رہے ہیں: پرینکا گاندھی

پرینکا گاندھی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آسام کی حکومت کو اپنے حق کے لیے کھڑا ہونا ہوگا۔ ہم سبھی کو مل کر ایسا آسام بنانا ہے جہاں ہر نوجوان کے پاس کام ہو، بدعنوانی کا خاتمہ ہو اور لوگ خوشحال ہوں۔

<div class="paragraphs"><p>آسام میں انتخابی تشہیر کے دوران کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/INCIndia">@INCIndia</a></p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

’’نریندر مودی یہاں آ کر کہتے تھے کہ ہم ڈبل انجن کی حکومت چلائیں گے، لیکن حقیقت میں یہ ’ڈبل غلامی‘ کی حکومت چلا رہے ہیں۔ نریندر مودی امریکہ کے غلام بن گئے ہیں اور ہیمنت بسوا سرما یہاں مودی کے غلام بنے ہوئے ہیں۔ آج نریندر مودی کی پالیسیوں کے سبب پورے ملک میں بحران والی حالت ہے۔ یہ چاہتے ہیں کہ ڈبل غلامی کی حکومت آسام کی حکومت کو غلام بنا دے۔‘‘ یہ بیان آج کانگریس جنرل سکریٹری اور آسام اسکریننگ کمیٹی کی چیف پرینکا گاندھی نے آسام واقع ناظرہ میں ایک انتخابی تشہیر کے دوران دیا۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’آسام کی عوام کو اپنے حق کے لیے کھڑا ہونا ہوگا۔ ہم سبھی کو مل کر ایسا آسام بنانا ہے، جہاں ہر نوجوان کے پاس کام ہو، بدعنوانی کا خاتمہ ہو اور لوگ خوشحال ہوں۔‘‘

پرینکا گاندھی نے لوگوں کی زبردست بھیڑ سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی پر ریاست کی شناخت کے ساتھ ساتھ ثقافت کو بھی نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’جب ہم ’اہوم ثقافت اور سماج‘ کی بات کرتے ہیں تو ہمیں فخر ہوتا ہے کہ اس سماج نے ملک کو بہت کچھ دیا ہے۔ جب ہم آپ کی تہذیب اور ثقافت کے بارے میں سوچتے ہیں تو بھوپین ہزاریکا جی اور زوبین گرگ جی کی یاد آتی ہے۔ جب زوبین نہیں رہے تو ہم نے دیکھا کہ آسام سمیت پورا ملک رو رہا تھا۔ وہ اہوم اور آسام کی آواز تھے۔ ان کا عوام کے ساتھ محبت کا رشتہ تھا۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’زوبین جی نے جو راستہ دکھایا، اس پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ ہمیں ان سے جڑے لوگوں کے لیے کام کرنا چاہیے اور ایک بہتر آسام بنانا چاہیے۔‘‘


ریاست کی ہیمنت بسوا سرما حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کانگریس جنرل سکریٹری نے کہا کہ ’’آسام کے کئی قبائل ہیں، جنھیں ایس ٹی (درج فہرست قبائل) کا درجہ دینے کا وعدہ کیا گیا، لیکن اتنے سالوں سے حکومت ہونے کے بعد بھی وہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔‘‘ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ’’میری بہنیں مہنگائی سے پریشان ہیں۔ بچوں کی فیس، کتابیں، کھانے پینے کی چیزیں… سب کچھ مہنگی ہو چکی ہیں۔ اس مہنگائی نے تہواروں کو بھی پھیکا کر دیا ہے۔ آسام کی ثقافت میں خواتین کو مضبوطی دی گئی ہے، لیکن یہ حکومت تو خواتین کو بھی آگے نہیں بڑھانا چاہتی۔‘‘

وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما پر بدعنوانی کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’وہ صرف بدعنوانی میں مصروف ہیں۔ آسام کے وزیر اعلیٰ اور نریندر مودی صرف اپنا مفاد دیکھ رہے ہیں۔ یہ دونوں وہی کام کرتے ہیں، جس میں ان کا فائدہ ہوتا ہے۔ مودی اور ہیمنت چاہتے ہیں کہ عوام کو ڈرا دھمکا کر حکومت کی جائے۔ لیکن ہم چاہتے ہیں کہ آسام میں ایسی حکومت بنے جو آپ کو بغیر ڈرائے دھمکائے کام کرے، آپ کی خدمت کرے، آپ کی تہذیب و ثقافت کو آگے بڑھائے۔‘‘ لوگوں کی جمع بھیڑ سے انھوں نے اپیل کی کہ اسمبلی انتخاب میں کانگریس امیدواروں کو کامیاب بنا کر بدعنوان لوگوں کو اقتدار سے باہر کریں، کیونکہ اسی طرح عوام اور ریاست دونوں کی ترقی ہو سکے گی۔


اس دوران پرینکا گاندھی نے آسام کی عوام کے سامنے کانگریس کے ذریعہ طے کی گئی 6 گارنٹیوں کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ریاست میں کانگریس کی حکومت بننے پر کاروبار کرنے کے لیے خواتین کو 50 ہزار روپے دیے جائیں گے، خواتین کے بینک اکاؤنٹ میں بلاشرط نقد ٹرانسفر ہوگا، ہر کنبہ کو 25 لاکھ روپے کا مفت علاج مہیا کیا جائے گا، آسام کے 10 لاکھ ’بھومی پُتروں‘ (کسانوں) کو مستقل پٹہ دیا جائے گا، بزرگوں کو ہر ماہ 1250 روپے کی امداد فراہم کی جائے گی، اور آنجہانی زوبین گرگ کو 100 دنوں میں انصاف ملے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔