نریندر مودی نے پورے ملک کو قطار میں کھڑا کر خود ذمہ داری سے پلہ جھاڑ لیا ہے: کانگریس
کانگریس کا کہنا ہے کہ لوگ ایل پی جی کے لیے گھنٹوں لائن میں کھڑے ہیں۔ کسی کے گھر کئی دنوں سے چولہا نہیں جلا، تو کوئی اپنا سارا کام چھوڑ کر ایل پی جی کے لیے بھٹک رہا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی سے مختلف ممالک میں پیدا ایندھن بحران بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ ہندوستان میں بھی ایل پی جی بحران دیکھنے کو مل رہا ہے اور مہنگائی بھی تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ مودی حکومت نے ایل پی جی سلنڈر کی کمی نہ ہونے کا دعویٰ بھلے ہی کر رہی ہے، لیکن اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس لگاتار سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زمینی سچائی سامنے لانے کے لیے گراؤنڈ رپورٹس کی ویڈیوز شیئر کر رہی ہے۔ آج کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر راجدھانی دہلی کی ایک ایسی ویڈیو شیئر کی ہے، جو مودی حکومت کے دعووں کی قلعی کھول رہی ہے۔
راجدھانی دہلی کی اس ویڈیو میں درجنوں افراد ایل پی جی سلنڈر حاصل کرنے کے لیے قطار بند نظر آ رہے ہیں۔ سبھی پریشان ہیں اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ان میں سے کئی گھروں میں کچھ دنوں سے چولہے نہیں جلے ہیں۔ اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’یہ ویڈیو ملک کی راجدھانی دہلی کی ہے، جہاں لوگ ایل پی جی کے لیے گھنٹوں قطار میں کھڑے ہیں۔ کسی کے گھر کئی دنوں سے چولہا نہیں جلا، تو کوئی اپنا سارا کام چھوڑ کر ایل پی جی کے لیے بھٹک رہا ہے۔‘‘ مودی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کانگریس کا کہنا ہے کہ ’’نریندر مودی نے پورے ملک کو قطار میں کھڑا کر دیا ہے اور خود ذمہ داری سے پلہ جھاڑ چکے ہیں۔‘‘
کانگریس نے ایک ویڈیو اتر پردیش کی بھی شیئر کی ہے، جو کسی گاؤں کی ہے۔ وہاں بھی بڑی تعداد میں لوگ خالی ایل پی جی سلنڈر کے ساتھ قطار بند دکھائی دے رہے ہیں۔ سبھی تیز دھوپ اور بھوک و پیاس سے پریشان حال ہیں۔ ایک میڈیا ادارہ کے ذریعہ تیار کی گئی اس ویڈیو کی کلپ شیئر کرتے ہوئے کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’گیس کی طویل قطاریں اور بھوکے پیاسے دھوپ میں اپنی باری کا انتظار کرتے لوگ۔ یوپی کی یہ ویڈیو پورے ملک کی حالت بیان کر رہی ہے۔ ہر ریاست سے ایسی ہی تصویریں سامنے آ رہی ہیں۔‘‘ کانگریس نے آگے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’نریندر مودی ایک کمزور وزیر اعظم ہیں، ان کی ’سرینڈر پالیسی‘ نے ہندوستان کا بہت نقصان کیا ہے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ کانگریس رکن پارلیمنٹ گرجیت سنگھ اوجلا نے آج ایل پی جی بحران کا معاملہ لوک سبھا میں بھی اٹھایا ہے۔ انھوں نے ایوانِ زیریں میں اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ’’پورے ملک میں ابھی ایل پی جی کی کمی ہے، لیکن حکومت یہ بھروسہ دلا رہی ہے کہ ایل پی جی بھرپور ہے۔ حقیقت یہ بھی ہے کہ کچھ گیس ایجنسیاں اور ڈسٹریبیوٹرس بلیک مارکیٹنگ کر رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کے ساتھ ایسا ہوا ہے کہ ایل پی جی کی بکنگ ہوئی نہیں ہے، پھر بھی سلنڈر ڈیلیور دکھایا گیا ہے۔‘‘
زمینی سچائی کو سامنے رکھنے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ نے مسئلہ کو سنجیدگی سے لینے کی گزارش کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’میرا حکومت سے مطالبہ ہے کہ انھیں ایل پی جی سلنڈر ڈیلیوری سسٹم میں ڈیلیوری پن کوڈ کی سہولت لانی چاہیے۔ یہ ڈیلیوری کوڈ کنفرم کرے گا کہ صارفین کو ڈیلیوری مل گئی ہے۔ یہ کوئی بہت بڑا کام نہیں ہے، کیونکہ آج چھوٹی سے چھوٹی کمپنی بھی ہوم ڈیلیوری کے لیے کوڈ رکھتی ہے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’آج کئی لوگوں کو ایل پی جی نہیں مل رہی ہے، ایل پی جی کی کالابازاری بند ہونی چاہیے۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔