نندی گرام ضمنی انتخاب: کانگریس امیدوار کو عدالت نے 14 دنوں کے لیے جیل بھیجا، کانگریس کا سخت رد عمل

کانگریس ترجمان اجیتیش پانڈے نے کہا کہ ’’ہم نے ضمانت کے لیے درخواست دی تھی۔ ہم نے سوال اٹھایا تھا کہ نامزدگی داخل کرنے کے فوراً بعد انہیں بہت پرانے گرفتاری وارنٹ کی بنیاد پر کیوں گرفتار کیا گیا؟‘‘

عدالت، علامتی تصویر
i

ہلدیا سب-ڈسٹرکٹ کورٹ نے نندی گرام اسمبلی ضمنی انتخاب سے قبل گرفتار کیے گئے کانگریس امیدوار ملن پردھان کو 14 دن کی تحویل میں جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ جمعہ کو پولیس نے ملن پردھان کو قتل اور قتل کی کوشش سمیت 4 پرانے مقدمات میں گرفتار کیا تھا۔ اس گرفتاری کے بعد بنگال کی سیاست گرم ہو گئی تھی۔ کانگریس نے الزام لگایا تھا کہ ممتا بنرجی کی جانب سے حمایت کے اعلان کے بعد یہ گرفتاری عمل میں آئی ہے اور یہ مکمل طور پر سیاسی انتقام کا معاملہ ہے۔

بہرحال، ہفتہ کو عدالت میں پیشی کے دوران گرفتار کانگریس امیدوار ملن پردھان نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی خوف زدہ ہے، اس لیے اچانک اس طرح کی کارروائی ہوئی ہے۔ ملن کی گرفتاری کے خلاف ہفتہ کو ہلدیا سب-ڈسٹرکٹ کورٹ کے احاطہ میں کانگریس کارکنوں اور حامیوں نے احتجاج بھی کیا اور بی جے پی کے خلاف نعرے بازی کی۔


اب جبکہ عدالت نے ملن پردھان کو 14 دنوں کے لیے جیل بھیج دیا ہے، تو ان کے لیے انتخابی تشہیر کرنا ممکن دکھائی نہیں دے رہا۔ حالانکہ وہ جیل میں رہ کر انتخاب لڑ سکتے ہیں اور ان کے ساتھ انتخابی تشہیر کا عمل انجام دے سکیں گے۔ دراصل ضابطوں کے مطابق اگر امیدوار کو 2 سال سے کم کی سزا ہوتی ہے تو الیکشن کمیشن کو کسی طرح کی دقت نہیں ہوتی۔ اس گرفتاری اور جیل سے پرچۂ نامزدگی کی جانچ (اسکروٹنی) کے عمل پر بھی کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اگر وہ جیل میں بھی رہیں گے تو کانگریس کے دوسرے لیڈران جیل کے باہر کانگریس امیدوار کے حق میں انتخابی مہم چلا سکیں گے۔ انتخابی مہم کے لیے امیدوار کی جیل کے اندر ریکارڈ کی گئی تقریر بھی جلسوں میں مائیکروفون کے ذریعے نشر کی جا سکتی ہے۔

اس درمیان ریاستی کانگریس کے صدر شوبھنکر سرکار نے پورے معاملے میں اپنی شدید ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایک ضمنی انتخاب سے ریاست میں اقتدار تبدیل نہیں ہوگا۔ اتنی بڑی عوامی حمایت کے ساتھ اقتدار میں آنے کے بعد بی جے پی کو یہ سب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ ملن پردھان فرار نہیں ہو رہے تھے۔ پولیس انہیں بلا کر بات کر سکتی تھی۔ لوگ سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔‘‘ اس معاملہ میں کانگریس ترجمان اور وکیل اجیتیش پانڈے نے کہا کہ ’’ہم نے ضمانت کے لیے درخواست دی تھی۔ ہم نے سوال اٹھایا تھا کہ نامزدگی داخل کرنے کے فوراً بعد انہیں بہت پرانے گرفتاری وارنٹ کی بنیاد پر کیوں گرفتار کیا گیا، لیکن عدالت نے 14 دن کی عدالتی تحویل کا حکم دیا۔ ہم نے کہا کہ یہ گرفتاری غیر قانونی ہے۔‘‘ کانگریس نے اس فیصلہ کے خلاف اوپری عدالت میں اپیل کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا ہے۔


میڈیا رپورٹس کے مطابق اس معاملے میں ہوئی سماعت کے دوران جج نے سرکاری وکیل سے پوچھا کہ ملن پردھان کو اتنے دنوں بعد کیوں گرفتار کیا گیا۔ اس پر جواب دیا گیا کہ ملن پردھان اتنے دنوں سے غائب تھے، اب وہ مل گئے ہیں، اسی لیے انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔ حالانکہ پولیس کا یہ جواب کسی کے حلق سے نیچے نہیں اتر سکتا، کیونکہ ملن پردھان اکثر عوام اور میڈیا کے درمیان دیکھے گئے ہیں۔ انھوں نے جب پرچۂ نامزدگی داخل کیا، تب بھی پولیس نے انھیں گرفتار نہیں کیا تھا۔ گرفتاری تب عمل میں آئی، جب ممتا بنرجی نے انھیں حمایت دینے کا اعلان کیا۔ اس اعلان کے فوراً بعد ہی ملن پردھان کو 2007 کے ایک قتل معاملہ میں گرفتار کیا گیا۔ کانگریس اور ممتا بنرجی نے اس معاملے کو ’انتقامی سیاست‘ اور ’جمہوریت کا قتل‘ قرار دیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔