نماز کو طاقت کے مظاہرہ کا ذریعہ نہیں بنانا چاہئے، وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر

انڈین ویمن پریس کور کے ارکان سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کھٹر نے کہا کہ عوامی مقامات پر نماز ادا کرنا نامناسب ہے، نماز ادا کرنی چاہئے نہ کہ طاقت کا مظاہرہ

منوہر لال کھٹر/ تصویر آئی اے این ایس
منوہر لال کھٹر/ تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے کہا ہے کہ نماز کو طاقت کے مظاہرہ کا ذریعہ نہیں بنانا چاہئے۔ انہوں نے ریاست کے پٹودی گاؤں میں منعقدہ کرسمس کی تقریب میں رخنہ اندازی کو بھی افسوس ناک واقعہ قرار دیا۔

وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے یہ تبصرہ گڑگاؤں میں کچھ عوامی مقامات پر نماز کو روکنے کی کوشش کے درمیان کیا۔ انڈین ویمن پریس کور کے ارکان سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کھٹر نے کہا کہ عوامی مقامات پر نماز ادا کرنا نامناسب ہے، نماز ادا کرنی چاہئے، طاقت کا مظاہرہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ تمام لوگ عبادت کرنے کے لئے آزاد لیں لیکن یہ مخصوص مقامات پر ہونا چاہئے۔ اگر اس پر کوئی نااتفاقی ہے تو مختلف مذاہب کے لوگ مفاہمت کے لئے انتظامیہ سے رابطہ قائم کر سکتے ہیں۔ پٹودی کے واقعہ کے بارے میں پوچھے جانے پر، جہاں مبینہ طور پر دائیں بازو کے کچھ نوجوانوں نے کرسمس کی تقریب میں رخنہ اندازی کی تھی، انہوں نے کہا کہ یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے۔ ایسے واقعہ کی حمایت کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اس طرح کی کسی بھی تقریب میں رخنہ ڈالنا صحیح نہیں ہے۔


کسانوں کے احتجاج پر انہوں نے کہا کہ احتجاج شروع کرنے والوں اور اس کی حمایت کرنے والوں کے درمیان فرق کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اس کے پیچھے سیاسی مفاد والے لوگ ہیں۔ احتجاج شروع کرنے والے خود کو کسان لیڈر کہتے ہیں لیکن ان کی سیاسی خواہشات کسی سے چھپی نہیں ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔