ناگپور: بجلی بل کے خوف سے غریب افراد شدید گرمی میں بھی کولر-پنکھا بند رکھنے کو مجبور!

40 سالہ انورادھا شرون کے گھر کے کونے میں کولر تو رکھا ہے لیکن وہ بند پڑا ہے۔ اپریل کے مہینہ میں 188 یونٹ بجلی استعمال کرنے پر انہیں 1960 روپے کا بل ملا ہے، جو فی یونٹ 10 روپے سے بھی زیادہ بنتا ہے۔

گرمی، تصویر آئی اے این ایس
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

ملک میں گرمی کی شدت مسلسل نئے ریکارڈ بنا رہی ہے۔ دنیا کے سب سے گرم شہروں میں شمار ناگپور اور اس کے قریبی علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر چکا ہے۔ اس شدید گرمی کے درمیان پاور گرڈ کو ٹھپ ہونے سے بچانے کے لیے بڑے بڑے کولنگ سسٹم اور پنکھے لگائے جا رہے ہیں۔ بنیادی ڈھانچہ تو مضبوط ہو رہا ہے، لیکن اس کا جو مالی بوجھ عام لوگوں پر پڑ رہا ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے۔ بجلی کی بڑھتی قیمتیں اب متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے خاندانوں کے بجٹ پر بھاری پڑنے لگی ہیں، جس کی وجہ سے لوگ چاہ کر بھی کولر یا پنکھے کا استعمال کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہے ہیں۔

’اکنامک ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق ناگپور کے سُدام نگری جیسے مزدور پیشہ علاقوں میں رات کو 10 بجے کے بعد بھی گھروں کے باہر لوگوں کی بھاری بھیڑ دیکھی جا سکتی ہے۔ لوگ شدید گرمی کے باعث اپنے ٹن کی چھتوں والے گھروں کے اندر رکنے کی ہمت نہیں کر پا رہے ہیں۔ یہاں رہنے والی 40 سالہ انورادھا شرون کاولے ایک گھریلو ملازمہ ہیں۔ ان کے گھر کے کونے میں کولر تو رکھا ہے لیکن وہ بند پڑا ہے۔ اپریل کے مہینہ میں 188 یونٹ بجلی استعمال کرنے پر انہیں 1960 روپے کا بل ملا ہے، جو فی یونٹ 10 روپے سے بھی زیادہ بنتا ہے۔ یہ رقم ان کی کل خاندان کی ماہانہ تنخواہ کا تقریباً 10 فیصد ہے۔ اس بڑھتے اخراجات کی وجہ سے انہیں اپنی صحت سے متعلق ضروریات تک سے سمجھوتہ کرنا پڑ رہا ہے، تاکہ بچوں کی تعلیم کا خرچ نکالا جا سکے۔ صارفین کے لیے صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ وہ دن کا زیادہ وقت گھروں سے باہر وقت گزارنے کو مجبور ہیں تاکہ بجلی کا بل کم رکھا جا سکے۔


واضح رہے کہ مہاراشٹر میں ملک کی سب سے مہنگی بجلی مل رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ریاست کا بڑا صنعتی ڈھانچہ اور وسیع بجلی گرڈ کو بہتر طریقے سے چلانے کے لیے کی جانے والی بھاری سرمایہ کاری ہے۔ مہاراشٹر اسٹیٹ الیکٹرسٹی ڈسٹری بیوشن کمپنی (ایم ایس ای ڈی سی ایل) نے مارچ 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال میں بجلی کی فراہمی کے نیٹورک کو بہتر بنانے کے لیے اپنے سرمایہ کاری اخراجات (کیپیکس) میں 85 فیصد کا بھاری اضافہ کیا ہے، جو اب بڑھ کر 234.5 ارب روپے (2.4 بلین ڈالر) ہو گیا ہے۔ حالانکہ ریاستی حکومت نے 2030 تک رہائشی صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں 26 فیصد تک کٹوتی کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے، لیکن اس میں بھی مشکل پیش آ سکتی ہے۔ اس راحت کا بنیادی فائدہ ان صارفین کو ملے گا جو 100 یونٹ سے کم بجلی خرچ کرتے ہیں۔

بجلی کا یہ بحران صرف شہروں تک محدود نہیں ہے، بلکہ دیہی معیشت کو بھی مکمل طور سے متاثر کر رہا ہے۔ ناگپور سے تقریباً 100 کلومیٹر دور کیلاپور کے کسانوں کے مسائل الگ ہیں۔ حکومت کے ذریعہ زراعت کے لیے سبسڈی والی بجلی تو دی جا رہی ہے، لیکن اس کی ٹائمنگ درست نہیں ہے۔ بجلی صبح 8 بجے سے دوپہر کے بعد تک دی جاتی ہے، جب دھوپ سب سے زیادہ جان لیوا ہوتی ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ بجلی کمپنیوں کے لیے گرڈ کو متوازن کرنے کے لحاظ سے یہ وقت صحیح ہو سکتا ہے، لیکن اس جان لیوا دھوپ میں کھیتوں میں جا کر موٹر چلانا اور آبپاشی کرنا اپنی جان کو خطرے میں ڈالنا جیسا ہے۔ اس غلط ٹائم ٹیبل کی وجہ سے کئی کسانوں کی زمینیں خالی پڑی ہیں اور وہ صرف مانسون کے بھروسے بیٹھنے کو مجبور ہیں۔ اگر بجلی کی سپلائی صحیح وقت پر ہو تو فصل کی پیداوار اور کسانوں کی آمدنی دونوں میں اصلاح ہو سکتی ہے۔


تھنک ٹینک ’انٹیگریٹڈ ریسرچ اینڈ ایکشن فار ڈیولپمنٹ‘ (آئی آر اے ڈی) کا ماننا ہے کہ ریاستوں کو کم آمدنی والے لوگوں کے لیے گرمیوں میں خصوصی موسمی سبسڈی دینے پر غور کرنا چاہیے، تاکہ پیداواری صلاحیت متاثر ہونے اور صحت کے نظام پر بڑھتے ہوئے بوجھ کو روکا جا سکے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔