ناگالینڈ اسمبلی میں ’یونیفارم سول کوڈ‘ کے خلاف قرارداد پاس

ناگالینڈ کے وزیر اعلیٰ نیفیو ریو نے مرکزی حکومت کے مجوزہ یونیفارم سول کوڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کا نظریہ ہے کہ یہ سماجی و مذہبی رسوم کے لیے خطرہ پیدا کرے گا۔

<div class="paragraphs"><p>یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی)، علامتی تصویر آئی اے این ایس</p></div>

یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی)، علامتی تصویر آئی اے این ایس

user

قومی آوازبیورو

ناگالینڈ اسمبلی میں وزیر اعلیٰ نیفیو ریو سمیت سبھی اسمبلی اراکین کے ذریعہ یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) کی سخت مخالفت کیے جانے کے ایک دن بعد آج منگل کو ایوان نے اس مجوزہ قانون کے خلاف اتفاق رائے سے ایک قرارداد پاس کیا۔ وزیر اعلیٰ کے ذریعہ یو سی سی کے خلاف قرارداد پیش کیے جانے کے بعد ایوان نے اتفاق رائے سے اسے پاس کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی اراکین اسمبلی نے مجوزہ قانون کے دائرے سے ناگالینڈ کو چھوٹ دینے کی سفارش کی ہے۔

وزیر اعلیٰ نیفیو ریو نے کہا کہ مرکزی حکومت نے 21 فروری 2020 کو 22ویں لاء کمیشن کی تقرری کی تھی، جس کی مدت کار 31 اگست 2024 تک بڑھا دی گئی ہے۔ لاء کمیشن نے 14 جون کو ایک پبلک نوٹس جاری کر یو سی سی پر سبھی اسٹیک ہولڈرس سے ان کا نظریہ مانگا تھا۔


وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ناگالینڈ حکومت نے کابینہ کے فیصلے کے ذریعہ سے 4 جولائی کو لاء کمیشن کو اس سلسلے میں اپنے نظریات پیش کیے تھے، جس میں ناگالینڈ کی غیر معمولی تاریخ اور آرٹیکل 371 (اے) کے تحت دی گئی آئینی گارنٹی کی بنیاد پر یو سی سی کے تئیں اپنی مخالفت ظاہر کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ آرٹیکل 371 (اے) ناگاؤں کے مذہبی اور سماجی رسوم کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یکم ستمبر کو ریاستی حکومت کے ذریعہ یو سی سی پر مختلف اسٹیک ہولڈرس کے ساتھ منعقد مشاورتی میٹنگ میں مختلف قبائلی سماجوں اور تنظیموں کے نمائندوں نے یو سی سی کے نظریات پر اپنی سخت ناراضگی اور اعتراض ظاہر کیا تھا۔ نیفیو ریو نے کہا کہ ریاستی حکومت کا ماننا ہے کہ یو سی سی رسوم پر مبنی قوانین اور سماجی و مذہبی رسوم کے لیے خطرہ پیدا کرے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔