پولس اور بی جے پی میں ’ویڈیو وار‘، ایک دوسرے پر سٹہ بازی کرانے کا الزام!

وائرل ہو رہی ویڈیو میں پولس ایک ’سٹہ کنگ‘ سے پوچھ گچھ کر رہی ہے، جوکہ ’ہندو یوا واہنی‘ کے ضلع سکریٹری، بی جے پی کے زونل سربراہ اور زونل سکریٹری پر پیسے لے کر سٹہ کرانے کا اعتراف کر رہا ہے۔

تصویر قومی آواز
تصویر قومی آواز
user

آس محمد کیف

اتر پردش کے اقتدار پر قابض یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت زور شور سے صوبہ کے نظم و نسق کے تئیں سنجیدہ ہونے کے لاکھ دعوے کرے لیکن یکے بعد دیگرے ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں کہ ریاست کی پولس کو خاصہ شرمندگی اٹھانی پڑ رہی ہے۔ کچھ اسی طرح کا معاملہ بی جے پی رہنماؤں کے ساتھ بھی ہے جن کا طرز عمل پارٹی کی بدنامی کا سبب بن رہا ہے۔

تازہ معاملہ مظفرنگر ضلع کے تھانہ میرانپور کا ہے۔ یہاں بی جے پی رہنماؤں نے اپنی ہی حکومت میں ایک تھانہ انچارج پر 6 مہینے میں ایک کروڑ روپے بطور رشوت کمانے کا سرِ عام الزام لگایا ہے۔ مقامی سطح پر بی جے پی کی ایک میٹنگ میں سب کے سامنے بی جے پی رہنماؤں پر سٹہ بازی کرانے کا الزام لگا ہے، اس واقعہ کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔

مظفرنگر ضلع کا تھانہ میرانپور
مظفرنگر ضلع کا تھانہ میرانپور

میرانپور میں منعقدہ اس میٹنگ میں تمام مقامی بی جے پی رہنما شریک ہوئے، جنہوں نے تھانہ انچارج پر کئی طرح کے سنگین الزامات لگائے۔ میٹنگ میں موجود رہے جواہر لال سکھیجا نے کہا کہ پولس بے لگام ہو گئی ہے اور غلط دھندے کراکر پیسہ کما رہی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ ان کو موصول ہو رہی شکایتوں کے مطابق میرانپور کے تھانہ انچارج پنکج تیاگی اب تک ایک کروڑ روپے سے زیادہ ہضم چکے ہیں۔ بی جے پی کے دوسرے رہنماؤں نے بھی یہی الزامات عائد کئے۔

پیر کے روز منعقد ہونے والی اس میٹنگ کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد محکمہ پولس اور بی جے پی رہنماؤں میں سنسنی پھیل گئی۔ اس کے بعد شام ہوتے ہوتے اسی میٹنگ میں شامل رہے زیادہ تر بی جے پی رہنماؤں کی جرائم پیشہ افراد سے ساز باز ہونے کی ایک اور ویڈیو وائرل ہو گئی۔ اس میں بی جے پی کے 3 رہنماؤں پر پولس نے سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ وائرل ہو رہی ویڈیو میں پولس ایک سٹہ کنگ (سٹہ کرانے والے گروہ کے سرغنہ) سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ ویڈیو میں سٹہ کنگ ہندو یوا واہنی کے ضلع سکریٹری، بی جے پی کے زونل سربراہ اور زونل سکریٹری پر پیسے لے کر سٹہ بازی کی پشت پناہی کرنے کا الزام لگا رہا ہے۔

میرانپور تھانہ انچارج پنکج تیاگی کے مطابق گذشتہ دنوں انہوں نے سٹہ کنگ شمشاد کو حراست میں لیا تھا، جس نے کچھ بی جے پی رہنماؤں کی پشت پناہی میں سٹہ بازی کرنے کا اعتراف کیا۔ پولس کے مطابق بی جے پی رہنما سٹہ کرانے کے لئے شمشاد سے ماہانہ رشوت وصول کرتے تھے۔ پنکج تیاگی نے کہا، ’’میں نے یہ سٹہ بند کرا دیا اور پولس کو بدنام کرنے والے ان رہنماؤں کے تھانہ میں داخلہ پر روک لگا دی۔ اس لئے یہ لوگ مجھ سے برے طرح خفا تھے، جس کے بعد انہوں نے یہ سازش کی۔‘‘

حالانکہ بی جے پی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ تھانہ انچارج بدعنوان ہیں اور سابقہ پولس سپرنٹنڈنٹ نے شکایتوں کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی۔ اس معاملہ پر مظفرنگر کے ایس ایس پی ابھیشیک یادو کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین کی شکایت سنگین نوعیت کی ہے۔ معاملہ کی جانچ ہو رہی ہے اور حقائق سامنے آنے پر کارروائی کی جائے گی۔ ادھر بی جے پی کے ضلع صدر سدھیر سینی بھی اس معاملہ کی جانچ کرانے کی بات کہہ رہے ہیں۔

اس پورے معاملہ کے منظر عام پر آنے کے بعد سماجوادی پارٹی کے میرانپور اسمبلی حلقہ انتخاب کے سربراہ شاہد احمد کے مطابق، ’’بی جے پی والوں کا یہی اصل چہرہ ہے۔ ایک طرف تو وہ نظم و نسق کے بہتر ہونے کے دعوے کرتے ہیں اور دوسری طرح خود ہی اپنی پشت پناہی میں غلط کام کرواتے ہیں۔‘‘

وہیں بی جے پی اور پولس کے درمیان ہوئی اس ’ویڈیو وار‘ کی وجہ سے سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ یوتھ کانگریس کی ورکنگ کمیٹی کے رکن عبد اللہ عارف کے مطابق تشویش ناک بات تو یہ ہے کہ تھانہ انچارج پر لگائے گئے الزامات بھی کم سنگین نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلی نظر میں صاف نظر آتا ہے کہ یہ ’بندر باٹ‘ کا معاملہ ہے۔ ظاہر ہے کہ ہمام میں سب ننگے ہیں۔‘‘

next