مسلمانوں کو بھارت سے اچھا ملک اور ہندو سے اچھا دوست کہیں نہیں ملے گا! شاہنواز حسین

انہوں نے کہا کہ جہاں فرانس، اسرائیل اور یورپ میں مسلمانوں کی آزادی خطرے میں ہے، جبکہ بھارت میں کسی کی بھی مذہبی آزادی خطرے میں نہیں ہے

بی جے پی لیڈر شاہنواز حسین / تصویر یو این آئی
بی جے پی لیڈر شاہنواز حسین / تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

کولگام: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی ترجمان سید شاہنواز حسین نے کہا کہ بھارتی مسلمانوں کو بھارت سے اچھا ملک اور ہندو سے اچھا دوست کہیں نہیں ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں فرانس، اسرائیل اور یورپ میں مسلمانوں کی آزادی خطرے میں ہے وہیں بھارت میں کسی کی بھی مذہبی آزادی خطرے میں نہیں ہے۔

شاہنواز حسین نے ہفتے کو یہاں بونہ گام میں ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسل کے انتخابات کے سلسلے میں منعقدہ بی جے پی کے ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں۔

ان کا کہنا تھا: 'دنیا میں انڈونیشیا کے بعد سب سے بڑی مسلم آبادی پاکستان یا بنگلہ دیش میں نہیں بلکہ ہندوستان میں رہتی ہے۔ ہندوستانی مسلمان شاہنواز حسین آج آپ سے کہنے آیا ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے ہندوستان سے اچھا دیش اور ہندو سے اچھا دوست کہیں نہیں ملے گا'۔

ان کا مزید کہنا تھا: 'فرانس، اسرائیل اور یورپ میں رہنے والے مسلمانوں کا حال دیکھیں۔ ان کی مذہبی آزادی خطرے میں ہے۔ لیکن ہندوستان میں کسی کی بھی مذہبی آزادی خطرے میں نہیں ہے'۔ بی جے پی کے قومی ترجمان نے جلسے کے حاشیے پر نامہ نگاروں سے گفتگو میں کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے سے انکاری نہیں ہے۔

انہوں نے کہا: 'جو ایک کشمیری کے دل میں ہے وہ ہمارے دل میں بھی ہے۔ ہم نے کبھی نہیں کہا کہ ہم ریاست کا درجہ نہیں دیں گے۔ لیکن اس وقت نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور دوسری جماعتوں نے گپکار گینگ بنا لیا ہے'۔

ان کا مزید کہنا تھا: 'یہ ہمیں طاقتور مانتے ہیں تبھی تو گینگ بنا لیا ہے۔ اگر وہ ہمیں طاقتور نہیں مانتے تو الگ الگ انتخابات لڑتے۔ سب سے بڑا قبول نامہ یہ ہے کہ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو لگتا ہے کہ وہ بی جے پی کو اکیلے ہرا نہیں سکتے'۔

    Published: 22 Nov 2020, 9:11 AM
    next