مسلمان شکست و فتح کی نہیں بلکہ اپنے روشن مستقبل کی فکر کریں: ڈاکٹر ایوب سرجن

ایوب سرجن نے مسلمانوں کو خبردار کیا کہ وہ اپنی قیادت پیس پارٹی کو ترجیح دے کر اپنے روشن مستقبل کا انتخاب کریں، جو وقت پر کھڑا رہنے والوں کی جماعت ہے

ڈاکٹر ایوب سرجن، تصویر ٹوئٹر@ppayub
ڈاکٹر ایوب سرجن، تصویر ٹوئٹر@ppayub
user

یو این آئی

لکھنؤ: پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے میڈیا کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ مسلمانوں کو شکست و فتح کی فکر چھوڑ کر اس بات کی فکر کرنا چاہئے کہ ان کا مستقبل روشن کس طرح ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں مسلمانوں کی ووٹ لینے تک ہمدرد ہیں، اس کے بعد نہیں اس لئے وہ اپنی قیادت پیس پارٹی کو ترجیح دیں۔

اپنے بیان میں ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ آزادی کے بعد سے ہی مسلمان قیادت سے محروم ہیں اور سچر کمیٹی نے یہ واضح کر دیا کہ مسلمانوں کے حالات دلتوں سے بھی ابتر ہیں۔ مسلمانوں کو اگر گزشتہ 73 سالوں میں کچھ ملا ہے تو وہ ہے فساد، جس میں ان کے جان و مال دونوں ضائع ہوئے ہیں۔ آج حالات یہ ہے کہ مسلمان، دلت و پسماندہ طبقات انصاف کے لیئے بھٹک رہے ہیں مگر انہیں انصاف نہیں مل پا رہا۔


ایوب سرجن نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتوں نے مسلمانوں کا ووٹ لے کر اقتدار تو حاصل کیا، مگر انہیں صرف تسلی کے علاوہ کچھ نہیں دیا، اسی تسلی پر مسلمان آج تک ان پارٹیوں کی سازش کا شکار ہے۔ اگر مسلمانوں نے شکست و فتح کی فکر چھوڑ کر اپنی قیادت کو ترجیح نہیں دی تو آنے والا وقت ان کے لئے مزید دشواری والا ہوگا۔ جن پارٹیوں کو وہ اقتدار تک پہونچائیں گے، وہی ان کے لئے راہ کا کانٹا ثابت ہوں گے۔

ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ یہ اسمبلی کا انتخاب مسلمانوں کے لئے ایک امتحان ہے اور انہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے۔ بی جے پی نے جس طریقے سے مسلمانوں کے مستقبل کے لیئے این آر سی جیسے قانون کو لاکر ملک سے بے دخل کرنے کی سازش کر رہی ہے، یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ جن پارٹیوں پر مسلمانوں نے آج تک بھروسہ کیا انہوں نے مسلمانوں کے خلاف ہو رہی سازش کی کبھی مخالفت تک نہیں کی، انہیں خطرہ ہے کہ اگر وہ مسلمانوں کی حمایت میں بولیں گی تو ہندو ووٹ ناراض ہو جائے گا، جبکہ یہ حقیقت ہے کہ ملک کا 80 فیصدی ہندو سیکولر ہے وہ ملک میں امن کے ساتھ اور و مل جل کر رہنا چاہتا ہے مگر یہ بی جے پی کو پسند نہیں ہے۔


ڈاکٹر ایوب نے کہا کہ ملک کے ہندو اور مسلمانوں کے بھائ چارے و سالمیت کو ختم کرنے کے لیئے طرح طرح کی سازش کی جا رہی ہے اور مخالفت کرنے کے برعکس سیکولر پارٹیاں خاموش ہیں۔ کیا مسلمان ان پارٹیوں سے یہ امید کرتا ہے کہ وہ ان کے زخموں پر مرہم لگائیں گی، کبھی نہیں یہ ووٹ لینے تک ہمدرد ہیں، اس کے بعد نہیں۔ ایوب سرجن نے مسلمانوں کو خبردار کیا کہ وہ اپنی قیادت پیس پارٹی کو ترجیح دے کر اپنے روشن مستقبل کا انتخاب کریں، جو وقت پر کھڑا رہنے والوں کی جماعت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کا مستقبل آپ کے ہاتھ میں ہے، شکست و فتح نہیں بلکہ اپنے روشن مستقبل کی فکر کریں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔