ہندو شدت پسندی عروج پر، محبت کے دشمنوں نے ہندو-مسلم جوڑے کی سر عام پٹائی کی

بجنور کی پریا اپنے ساتھ کام کرنے والے سہیل کے ساتھ شادی کے رجسٹریشن کے لیے پہنچے تھے، ابھی جسٹریشن کا عمل شروع ہی ہوا تھا کہ ہندو تنظیموں کے کارکنان نے موقع پر پہنچ کر ان کی پٹائی شروع کردی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

آس محمد کیف

غازی آباد :مسلم لڑکی کسی ہندو لڑکے سے شادی کر ے تو کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا بلکہ بہت خوشی خوشی یہ شادی ہو جاتی ہے لیکن اگر معاملہ اس کے بر عکس ہو یعنی لڑکی ہندو ہو اور لڑکا مسلمان تو ہنگامہ برپا ہو جاتا ہے ۔ ہندو شدت پسندی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ ہر معاملہ کو فرقہ پرستی کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے اور یہ قووتیں خود کو ہندو دکھانے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہیں، چاہے اس میں ہندو لڑکی کی زندگی یا اس کے جذبات ہی کو کیوں نہ کچلنا پڑے۔ کچھ ایسا ہی آج غازی آباد میں ہوا جب سر عام ہندو-مسلم جوڑے کی سماج دشمن عناصر نے پٹائی شروع کر دی جس کے بعد وہاں کا ماحول کشیدہ ہو گیا۔ دراصل ضلع بجنور کے دھام پور کی 24 سالہ پریا اپنے ساتھ کام کرنے والے 27 سالہ سہیل کے ہمراہ شادی رجسٹریشن کے لیے پہنچی تھی اور رجسٹریشن کا عمل شروع ہی ہوا تھا کہ دونوں کے الگ الگ مذہب سے تعلق رکھنے کی بات وہاں پھیل گئی اور پھر بات بگڑنے میں دیر نہیں لگی۔

مقامی وکیل زاہد علی کے مطابق جیسے ہی یہ خبر پھیلی کہ الگ الگ مذاہب سے تعلق رکھنے والے لڑکا اور لڑکی شادی کے رجسٹریشن کے لیے پہنچے ہیں ویسے ہی ہندو تنظیموں سے جڑی ایک ٹیم فوراً وہاں پہنچ گئی اور اس نے دونوں کو پیٹنا شروع کر دیا۔ خاص طور سے لڑکے کو بری طرح سے پیٹا گیا۔ لڑکے کو مرغا بنایا گیا اور اسے قابل اعتراض باتیں کہی گئیں، ساتھ ہی اس کے مذہب پر بھی لعن و طعن کیا گیا۔

یہ واقعہ آج صبح 11 بجے کا ہے۔ ٹھیک اسی طرح کا معاملہ گزشتہ ہفتہ بجنور میں بھی پیش آیا تھا جہاں ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والی لڑکی ممتا اپنے ساتھ کام کرنے والے ایک مسلم مرد کے ساتھ بجنور میں شادی رجسٹریشن کرانے پہنچی تھی اور پھر اچانک ہندو تنظیموں کے لوگ پہنچ گئے تھے۔

یہ وہی غازی آباد ہے جہاں گزشتہ دنوں آئی اے ایس افسر کی پوتی کی شادی مسلم نوجوان سے ہونے کے بعد کافی بدنامی جھیلنی پڑی تھی۔ سماجوادی پارٹی کے مقامی لیڈر پرویز غازی نے سوال اٹھایا ہے کہ ہندو تنظیموں کے لوگوں کو یہ جانکاری کیسے ملتی ہے کہ دو الگ الگ مذاہب کے جوڑے یہاں شادی کرنے والے ہیں۔ پرویز کہتے ہیں کہ ’’میرج رجسٹرار دفتر کے لوگ ہندو تنظیموں کو فون کر کے بلاتے ہیں۔ لڑکی کے ہندو اور لڑکے کے مسلمان ہونے پر ان کے اندر کا وحشی پن جاگ اٹھتا ہے۔ اس کے برعکس لڑکی کے مسلمان اور لڑکے کے ہندو ہونے پر یہ تعاون کرتے ہیں۔ اس طرح کے معاملوں کی جانچ ہونی چاہے۔‘‘

قابل غور ہے کہ ہندو تنظیمیں لگاتار ’لو جہاد‘ کا نام لے کر عاشق جوڑوں کو پریشان کرتے رہتے ہیں اور مختلف شہروں میں سرعام مسلم لڑکے اور ہندو لڑکی کو پیٹنے کی بات سامنے آتی رہتی ہے، جب کہ ابھی تک ایک معاملہ بھی ایسا سامنے نہیں آیا ہے جس میں مسلم لڑکی ہندو لڑکے سے شادی کرنے کا ارادہ رکھتی ہو اور اس کو پیٹا گیا ہو۔

سینکڑوں شادی کرا چکے وکیل منوج سودائی کے مطابق غازی آباد میں شادی کا عمل آسان ہے اور گزشتہ ایک سال سے آن لائن رجسٹریشن ہو رہا ہے۔ اس کے بعد مقامی تحصیل کو جانکاری دی جاتی ہے اور یہاں بڑی تعداد میں مسلم لڑکیوں نے ہندو لڑکوں سے شادی کی ہے۔ لیکن اس پر کبھی کوئی تنازعہ نہیں ہوا۔ جب لڑکی ہندو ہوتی ہے تو اسے پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑتا ہے۔ کئی بار تو خود وکیل ایسے جوڑوں کی پٹائی شروع کر دیتے ہیں۔

ہر بالغ لڑکا اور لڑکی کو اپنی مرضی سے شادی کرنے کا قانونی حق حاصل ہے لیکن سماج دشمن عناصر محبت کے دشمن بنے پھر رہے ہیں۔ غازی آباد کی ایک خاتون لیڈر ریتو کھنہ کا کہنا ہے کہ ’’اس ملک میں قانون کا مذاق بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ ہندووادی غنڈے ہر سطح پر یہ ثابت کر رہے ہیں کہ قانون ان کی مٹھی میں ہے۔ جو لوگ سرعام بری طرح پٹائی کر رہے ہیں وہ جان بھی لے سکتے ہیں۔‘‘

بہر حال، غازی آباد کے سہانی گیٹ تھانہ میں چار نامعلوم لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایس پی سٹی آکاش تومر کے مطابق پولس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس پٹائی کا جو ویڈیو وائرل ہوا ہے اس میں نوجوان کو سرعام پیٹنے والے غنڈے ایسے چہرے نہیں جن کی شناخت نہ ہو سکے، پھر بھی وہ ابھی تک گرفتار کیوں نہیں ہوئے۔ یہ واقعہ ہندوستان میں ظلم کی عبارت لکھنے اور نظامِ قانون کو انگوٹھا دکھانے کا پہلا اور آخری واقعہ نہیں ہے اور اگر حکومت اور سماج ایسے عناصر کے خلاف کھڑا نہیں ہوا تو آنے والا وقت اچھا نہیں ہے۔

Published: 24 Jul 2018, 6:09 PM