برقع پہننے والی مسلم خواتین کو بی جے پی وزیر نے کہا ’راون کی بہن‘

برقع پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بی جے پی وزیر نے کہا کہ ’’مسلم عورتیں برقع پہنتی ہیں کیونکہ وہ راون کی بہن شوپرنکھا کی نسل سے ہیں۔ اب اس برقع کا استعمال دہشت گردکر رہے ہیں۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

بی جے پی کے کئی وزراء اور لیڈران مسلمانوں کے خلاف نفرت بھرے بیان دینے کے لیے مشہور ہیں اور اس فہرست میں یوگی حکومت میں وزیر رگھو راج سنگھ کا نام بھی شامل ہو گیا ہے۔ رگھو راج سنگھ نے مسلم عورتوں کے تعلق سے انتہائی نازیبا بیان دیتے ہوئے انھیں راون کی بہن بتایا ہے۔

برقع پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بی جے پی وزیر نے کہا ہے کہ ’’مسلم عورتیں برقع پہنتی ہیں کیونکہ وہ راون کی بہن شوپرنکھا کی نسل سے ہیں۔ اور اب اس برقع کا استعمال دہشت گردوں کے ذریعہ کیا جانے لگا ہے، لہٰذا اس پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔‘‘ یہ باتیں رگھو راج سنگھ نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہیں۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے رگھو راج سنگھ نے تفصیلی طور پر بتایا کہ ’’برقع پہننے کی رسم عرب سے ہندوستان آئی ہے۔ اس کے پیچھے کا مقصد یہ ہے کہ مسلم خواتین اپنا چہرہ چھپا سکیں، ایسا اس لیے کیونکہ بھگوان لکشمن نے راون کی بہن ’شوپرنکھا‘ کی ناک کاٹ دی تھی۔ اس کے بعد وہ برقع پہن کر وہاں سے چلی گئی تھی۔ صرف راکششوں کی نسل کے لوگ ہی برقع پہن سکتے ہیں۔ کوئی بھی عام شخص برقع نہیں پہن سکتا۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’میں مودی حکومت سے اس برقع پر پابندی عائد کرنے کی اپیل کروں گا کیونکہ برقع پہن کر دہشت گرد ہمارے ملک میں گھس جاتے ہیں۔‘‘

سری لنکا کا تذکرہ کرتے ہوئے رگھو راج سنگھ نے کہا کہ وہاں برقع پر پوری طرح سے پابندی ہے اس لیے ہندوستان میں بھی اس پر پابندی لگانے میں کوئی دقت نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’جب سب کھلے میں رہیں گے تو لوگوں کو پہچاننے میں آسانی ہوگی کہ کون دہشت گرد ہے اور کون نہیں۔‘‘ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف بیان بازی کرنے والوں کو رگھو راج سنگھ نے نصیحت دی کہ ’’اگر کوئی ڈنڈے سے مارنے کی بات کرے گا تو ہم اسے جوتوں سے ماریں گے، چھوڑیں گے نہیں۔‘‘

واضح رہے کہ رگھوراج سنگھ پہلے بھی متنازعہ اور نفرت انگیز بیان دے چکے ہیں۔ گزشتہ مہینے کی ہی بات ہے جب انھوں نے کہا تھا کہ ’’پی ایم مودی اور سی ایم یوگی کے خلاف نعرہ لگانے والوں کو زندہ دفن کر دیا جائے گا۔‘‘ اس متنازعہ بیان کی میڈیا میں کافی مذمت ہوئی تھی، لیکن ایک بار پھر رگھوراج نے نفرت انگیز بیان میڈیا کے سامنے دیا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ انھوں نے مسلم عورتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو پردہ کو اپنی زندگی کا بہت اہم جز تصور کرتی ہیں۔

Published: 10 Feb 2020, 6:11 PM
next