مسلم پرسنل لاء بورڈ غیر مطمئن، فیصلہ کا پھر بھی کیا خیرمقدم!

جیلانی نے کہا کہ ملک کے آئین اور سیکولر تانے بانے کے حساب سے یہ فیصلہ اہم ہے، سپریم کورٹ سے انھیں جو امید تھی وہ پوری نہیں ہوئی لیکن وہ عدالت کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: آل انڈیا پرسنل لاء بورڈ نے ایودھیا معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کیا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ وہ اس سے پوری طرح مطمئن نہیں ہے۔ پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری اور ایڈوکیٹ ظفریاب جیلانی نے ہفتے کے روز یہاں مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن اس سے پوری طرح مطمئن نہیں ہیں۔ فیصلے کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد مستقبل کے لائحہ عمل پر غوروخوض کریں گے۔

ظفر یاب جیلانی نے کہا کہ ملک کے آئین اور سیکولر تانے بانے کے حساب سے یہ فیصلہ اہم ہے۔ سپریم کورٹ سے انھیں جو امید تھی وہ پوری نہیں ہوئی لیکن وہ عدالت کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔ عدالت کی جانب سے مسلم فریق کو مسجد کے لیے علیحدہ زمین دینے سے متعلق سوال پر جیلانی نے کہا کہ مسجد کی کوئی قیمت نہیں لگائی جا سکتی اور نہ ہی کوئی چیز اس کی بدل ہو سکتی ہے۔ فیصلے سے لگتا ہے کہ عدالت ان کے دلائل کو درست طور پر سمجھ نہیں پائی۔

انہوں نے کہا کہ اس فیصلے میں کسی کی جیت یا ہار نہیں ہوئی ہے اس لیے ملک کے تمام افراد کو اسے ماننا چاہیے اور آپسی بھائی چارے کو فروغ دینا چاہیے۔ جماعت اسلامی ہند کے سربراہ سعادت اللہ حسینی نے کہا عدالت کے فیصلے سے وہ پوری طرح سے مطمئن نہیں ہیں۔ سول سوسائٹی میں لاء اینڈ آرڈر (امن عامہ) کی بڑی اہمیت ہے لہٰذا وہ اسے قبول کریں گے۔ انہوں نے ملک کے باشندوں سے امن اور سکون قائم رکھنے کی اپیل کی ہے۔

آل انڈیا مسلم پرنسل لاء بورڈ کے کنوینرکمال فاروقی نے کہا ہے کہ اس کے بدلے اگر مسلم فریق کو سو ایکڑ بھی زمین دی جاتی تو وہ لاحاصل ہے، کوئی فائدہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس پہلے ہی 67 ایکڑ زمین تھی جسے تحویل میں لے لیا گیا ہے توپھر مل کیا رہا ہے محض پانچ ایکڑ زمین!...