’بیف سوپ‘ کی تصویر پوسٹ کرنے پر مسلم نوجوان کی موب لنچنگ، واقعہ کی سوشل میڈیا پر مذمت

محمد فیضان نے بیف کا سوپ پیتے ہوئے سوشل میڈیا پر کچھ تصاویر پوسٹ کی تھیں، جس کے بعد ہندو انتہا پسندوں نے ان پر حملہ کر دیا، پولس نے اس معاملہ میں 4 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

ہندی بیلٹ میں گائے کے نام پر مسلمانوں اور دلتوں کی موب لنچنگ کے واقعات میں اضافہ کے دوران اب جنوبی ہند کی ریاست تمل ناڈو میں بھی بیف کے نام پر ہجومی تشدد کا واقعہ رونما ہوا ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق 24 سالہ مسلم نوجوان محمد فیضان نے بیف کا سوپ پیتے ہوئے سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک پر کچھ تصاویر پوسٹ کی تھیں، جس کے بعد ہندو انتہا پسندوں نے ان پر حملہ کر دیا۔ اس معاملہ میں پولس نے جمعہ 12 جولائی کو 4 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

فیضان پر ہوئے حملہ کے بعد سوشل میڈیا پر بہت تیزی کے ساتھ لوگوں کی طرف سے رد عمل کا اظہار ہونے لگا اور لوگوں نے فیضان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے، انتہا پسندوں کے خلاف پوسٹ ڈالیں۔ کچھ ہی دیر میں Beef4Life BeefForLife اور WeLoveBeef جیسے ہیش ٹیگز ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ میں شامل ہو گئے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق فیضان نے جمعرات 11 جولائی کی رات بیف سوپ پیا تھا۔ انہوں نے اس کا ذکر فیس بک پر کیا۔ اس کے بعد ’ہندو مکَّل کاچی‘ نامی انتہا پسند تنظیم کی طرف سے اس کی شکایت پولس میں کی گئی۔ جس کے جواب میں فیضان نے بیف کے سوپ کی تصاویر اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر پوسٹ کر دیں۔

اس کے بعد مذکورہ ہندو شدت پسند تنظیم کی جانب سے فیضان کے خلاف ایک فیس بک پر تحریک چھیڑ دی گئی اور بعد میں ان پر حملہ کیا گیا۔

’بیف سوپ‘ کی تصویر پوسٹ کرنے پر مسلم نوجوان کی موب لنچنگ، واقعہ کی سوشل میڈیا پر مذمت

جمعرات کو رات کے تقریباً 11 بجے ایک درجن لوگوں نے سڑک کے کنارے فیضان کو پکڑ کر ان کے ساتھ مار پیٹ کی۔ اس کے بعد تمام حملہ آور فیضان کے بے ہوش ہونے پر فرار ہو گئے۔

فیضان نے میڈیا کو بتایا، ’’جنہوں نے مجھ پر حملہ کیا، ان سے میں واقف ہوں۔ وہ ظالم تھے اور ان کا ارادہ حملہ سے زیادہ کا تھا۔ پولس کی پٹرولنگ گاڑی نے میری جان بچائی۔‘‘

بیف کھانے کی پاداش میں فیضان کی پٹائی کے بعد سوشل میڈیا پر لوگوں کا غصہ پھوٹ پڑا اور لوگ فیضان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے پوسٹ ڈالنے لگے۔ دریں متعدد لوگوں کی طرف سے بیف کھاتے ہوئے اپنی تصاویر بھی پوسٹ کی گئیں۔

فیضان نے اس واقعہ کی شکایت پولس میں کی، جس پر کارروائی کرتے ہوئے پولس نے 4 لوگوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ حالانکہ پولس نے دعوی کیا ہے کہ گرفتار کئے گئے ملزمان ہندو مکل کاچی تنظیم سے وابستہ نہیں ہیں۔

دوسری طرف ہندو مکل کاچی نے بھی اس حملہ سے کنارہ کر لیا ہے۔ پارٹی کے ریاستی سکریٹری نے کہا کہ حملہ آور ان کی پارٹی کے حامی ضرور ہیں لیکن ارکان نہیں ہیں۔

تمل ناڈو کانگریس کمیٹی کے اقلیتی شعبہ کے صدر ڈاکٹر اسلم باشاہ نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں شرپسندوں کی جانب سے بیف کھانے کے الزام میں حملہ کی مذمت کرتا ہوں۔ ایک طرف ہندوستان دنیا کا بڑا بیف ایکسپورٹ کرنے والا ملک بن گیا ہے اور دوسری طرف غیر سماجی عناصر کی طرف سے بیف کھانے کے الزام میں عام لوگوں کو پیٹا جا رہا ہے۔‘‘ اسلم باشاہ سوال کرتے ہوئے کہتے ہیں، کیا حکومت کی پشت پناہی میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے؟

Published: 12 Jul 2019, 10:10 PM