بابری مسجد: سپریم کورٹ کے فیصلہ پر صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا جائے:مسلم رہنما

مسلم رہنماؤں اور عمائدین نے کسی بھی کشیدگی کے نتیجہ میں صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے حکومت سے امن وامان برقرار رکھنے کے لیےکہا ہے

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

یو این آئی

بابری مسجد حق ملکیت کے سپریم کورٹ سے فیصلہ آنے سے قبل ملک کے وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ اتوارکو ” من کی بات“ کے عنوان کے تحت ریڈیوپروگرام میں الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی طرح کے فیصلے کے پیش نظرصبر وتحمل کے ساتھ ساتھ امن وامان کو بھی برقرار رکھیں،اسی پس منظر میں مسلم رہنماؤں اور عمائدین نے بھی کسی بھی کشیدگی کے نتیجہ میں صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے حکومت سے امن وامان برقرار رکھنے کے لیے موثر اقدامات کا مطالبہ بھی کیا ہے اور ایسے شرپسند عناصر کے خلاف بھی سخت نظررکھے جو حق ملکیت کا فیصلہ بابری مسجد کے حق میں آنے پر شرانگیزی کر سکتے ہیں۔

مشہور ومعروف تعلیمی ،سماجی اور ثقافتی ادارہ انجمن اسلام کے صدر ڈاکٹر ظہیر قاضی نے واضح طورپر کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ کے فیصلہ کو ہر حال تسلیم کرنا ہوگا اور نظم وضبط کے لیے ضروری ہے کہ ہم صبر وتحمل برقرا رکھیں تاکہ کسی بھی شرانگیزی سے بچا جاسکے ۔ کورٹ کا فیصلہ حتمی فیصلہ ہوگا جسے مان لینا چاہیئے ۔اس معاملہ میں سپریم کورٹ کا فیصلہ سرآنکھوں پر ہونا چاہئے۔ جبکہ ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے روح رواں اور مشہورتاجر ارشد صدیقی نے بھی اس بات کی حمایت کی ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کو تسلیم کرتے ہوئے ہمیں سڑکوں پر احتجاج کرنے کے بجائے صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔

انہو ں نے کہا کہ اگر ہم بابری مسجد حق ملکیت کے فیصلہ سے متفق نہیں بھی ہوں تو ہمیں اسے تسلیم کرتے ہوئے ،صبر کا مظاہرہ کرنا ہے ،کیونکہ یہ آزمائش کا دورہے جس سے ہم گزررہے ہیں کیونکہ ہماری مثال خربوزہ کے طورپر دی جاسکتی ہے کہ اگر چھری خربوز پر گرے یا خربوزہ چھری پرگرے تو خربوزہ ہی کٹتا ہے،پھربھی ہمیں بذدل بھی نہیں بننا ہے بلکہ عقل وسمجھداری کا مظاہرہ کرنا ہے ،کیونکہ آج بھی ملک میں 80-90فیصد برادران وطن سیکولر ہیں اور ہمارے حقوق کے لیے شانہ بشانہ کھڑے رہتے ہیں۔اس لیے ہمیں جذبات کو ایک طرف کرکے دانشمندی اور حکمت کامظاہرہ کرنا ہوگا۔

سماج وادی پارٹی ممبئی ومہاراشٹر کے صدر ورکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے اپنے ایک اخباری بیا ن میں کہا ہے کہ ہر ضلع میں بھاری تعداد میں فورس تعینات کی جارہی ہے ۔ لگتا ہے کہ بابری مسجد کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے والا ہے ۔ انہوں نے عوام اور خصوصاًمسلمانوں سے کہا کہ عدالت کا فیصلہ چاہے جوہو ہمیں صبر ،ضبط اور استقامت سے کام لیناہوگا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ کسی بھی حالت میں وہ قانون شکنی اور تشدد کے شکار نہیں بنیں۔

اس موقع پر رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے مزید کہا کہ کشمیر میں آرٹیکل 370کے خاتمہ سے قبل جس طرح فورس تعینات کی گئی تھی اسی طرح اترپردیش میں بھی فورس تعینات کی جارہی ہے ، اس سے قیاس آرائیوں کوتقویت مل رہی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ہم عدالت پر اعتماد کرتے ہیں اور خودعدلیہ کے چار ججوں نے حال ہی میں یہ ریمارک دیا تھا کہ ملک جن کے ہاتھوں میں ہے وہ ملک کو صحیح طریقے سے نہیں چلا رہے ہیں ، ملک میں بنیادی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے نفرت ،اشتعال انگیز ی اور تنازعات کو ہوا دی جارہی ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ جہاں تک بابری مسجد مقدمہ کاتعلق ہے،قائدین ملت بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ مسلمانوں کو عدلیہ پر اعتماد ہے اور وہ اس مقدمہ کی جنگ آخردم تک عدالت میں ہی لڑیں گے ،اس لئے مسلمان حالیہ فیصلہ چاہے جوبھی آئے امن و صبر کا مظاہرہ کریں کیونکہ بابری مسجد معاملہ میں قانونی عدالتی اوردستوری جنگ آخری لمحہ تک جاری رہے گی ۔ اورآج نہیں تو کل انصاف ضرور ملے گا ،ظلم کی ناﺅ بہت زیادہ نہیں چلے گی ۔

انہوں نے یاد دلاتے ہوئےکہا کہ 6 دسمبر 1992 ءکے بعدغم وغصہ اور صبر کا دامن چھوڑدینے پر ممبئی شہر میں جو بھے فسادات بھڑک اٹھے انکی آج بھی یاد تازہ ہیں ۔ان فسادات میں ڈھائی ہزار سے زیادہ افراد مارئے گئے تھے ، لاکھوں خاندان برباد ہوگئے ،پانچ ہزار کروڑ روپیوں کا مالی نقصان ہوا تھا،مسلمانوں کو فسادیوں اور فرقہ پرست پولس کے مظالم کا بھی شکار ہونا پڑا تھا۔ ماضی کے اس تجربہ کی بنیاد پر میں عوام سے اپیل کرتاہوں کہ عدالت کافیصلہ جو آئے ،صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑیں اور قائد ین ملت اور ملی جماعتوں مثلاًآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ،جمیعت العلماءہند ،جمات اسلامی ودیگر جماعتوں کا جو بھی اقدام ہو اسکی متحدہ طورپر تائید وحمایت کریں ۔ آپس میں کسی بھی اختلاف یا انتشار کونہیں بڑھائیں اور حالات کا استقامت کے ساتھ مقابلہ کریں۔

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی ) ممبئی کے صدراور ترجمان ایم ایل اے نواب ملک نے وزیراعظم مودی کے بیان کے حوالے سے کہا کہ یہ وزیراعظم کی ذمہ داری ہے کہ سپریم کورٹ کا جوبھی فیصلہ آئے اُس پر عمل کریں اور سپریم کورٹ کے فیصلہ کو سبھی فریق کو تسلیم کرنا ہوگا ،اگرفیصلہ مندر کے حق میں آیااور فیصلہ مسجد کے حق میں آنے پر بھی اسے مان لیں گے اور انہیں ضمانت لینا چاہئیے کہ وہ سپریم کورٹ کے کسی بھی قسم کے فیصلے کو نافذ کریں گے اور ان کی پارٹی بی جے پی اور اس کی ہمنوا تنظیمیں بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کریں گی۔اس کی مرکزی حکومت کو ضمانت لینا چاہئیے۔

آل انڈیا مسلم پرنسل لاءبورڈ ایکزیکٹیو کمیٹی کے سنیئر رکن حافظ سیّد اطہر علی نےکہا کہ صبر تحمل کی بارے میں جو بیان ہے وہ تو ٹھیک ہے کیونکہ دوباتیں سامنے ہیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ یا تو ہمارے حق میں یا مخالفت میں آئے گا۔ ہم بابری مسجد کی بازیابی کے حق میں ہیں اور اس سلسلہ میں پوری امید ہے کہ فیصلہ حق میں ہی آئے گا کیونکہ یہ حق ملکیت کا معاملہ ہے۔کیونکہ جوثبوت اور گواہیاں پیش کی گئی ہیں ،ان سے یہی ظاہر ہوتا ہے ،لیکن اگر فرض کیجئے سپریم کورٹ میں فیصلہ ہمارے حق میں نہیں آیا تو سپریم کور ٹ کے فیصلے کو ماننا ہی پڑے گا ،ہر صورت میں ہم صبر وتحمل کا مظاہر ہ کریں ،یہ سبھی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کا دھیان رکھیں۔

مہاراشٹر مولانا آزاد مالیاتی کارپوریشن کے چیئرمین اور سنیئر بی جے پی لیڈر حاجی حیدر اعظم نے بھی کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو ہمیں تسلیم کرنا ہوگااور عدالت کے فیصلہ کو ماننا ہے ،یہ کوشش بھی ہوکہ قانون اپنے ہاتھوں میں نہ لیا جائے بلکہ ایسے موقع پر صبر وتحمل اور بھائی چارگی کا مظاہرہ کیا جائے تاکہ نظم ونقض کو کسی طرح سے کوئی نقصان نہ پہنچے ۔

واضح رہے کہ گزشتہ اتوار کو موی نے اپنے ماہنامہ ’من کی بات‘کے عنوان سے ریڈیو پروگرام میں اس مقدمہ کا ذکر کرتے ہوئے امن وامان کا مظاہرہ کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کا حوادلہ دیا تھا اورکہا کہ اس وقت تمام ہم وطنوں نے زبردست تحمل کا ثبوت دیا تھا جس سے ملک کی فضا نے ایک شاندار تبدیلی محسوس کی تھی اور امید ہے کہ مستقبل میں بھی اس طریقہ کار کو اپنایا جائے گا۔

انہوںنے یاد دلایا ہے کہ ستمبر 2010 میں جب رام جنم بھومی پر الہ آباد ہائی کورٹ میں اپنا فیصلہ سنایا تھا ان دنوں کو یاد کیجئے کیسا ماحول تھا ،بھانت بھانت کے کتنے لوگ میدان میں آگئے تھے، کیسے کیسے گروپ ان حالات کا اپنے اپنے طریقے سے فائدہ اٹھانے کے لیے کھیل کھیل رہے تھے ماحول میں اشتعال پیدا کرنے کے لیے کس کس قسم کی زبانیں بولی جاتی تھیں۔ مختلف آوازوں میں تلخی پیدا کرنے کی بھی کوشش ہوتی تھی ۔ ایک دو ہفتے تک اشتعال پیدا کرنے کے لیے سب کچھ ہوا تھا لیکن جب رام جنم بھومی پر فیصلہ آیا تو حکومت سیاسی جماعتوں سیاسی تنظیموں تمام فرقوں کے نمائندوں اور دوستوں نے بہت ہی متوازی اور پرتحمل بیان دیئے تاکہ ماحول میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی جائے۔ میں جب بھی اس دن کو یاد کرتا ہوں دل کو خوشی ہوتی ہے عدلیہ کے وقار کا بہت ہی پروقار طریقے سے احترام کیا گیا اور کہیں پر بھی کشیدگی کا ماحول نہیں بننے دیا یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے یہ ہمیں بہت طاقت دیتی ہیں وہ دن وہ لمحے ہم سب کے لئے فرض کا احساس ہے۔