منا بجرنگی کے قتل سے مختار انصاری خوف زدہ، دو دن سے بیرک میں بند

مافیا ڈان اور بی ایس پی رکن اسمبلی مختار انصاری (فائل تصویر)

منا بجرنگی کو دنیائے جرائم میں بدنام زمانہ بنانے والے مختار انصاری یوپی کی باندہ جیل میں قید ہیں اور خوف زدہ ہیں۔ منا بجرنگی کے قتل سے وہ اتنا سہمے ہوئے ہیں کہ اپنی بیرک سے باہر بھی نہیں نکل رہے ہیں۔

اتر پردیش کی باندہ جیل میں قید بی ایس پی رکن اسمبلی اور پوروانچل کے مافیا ڈان مختار انصاری اپنے ساتھی منا بجرنگی کے باغپت جیل میں قتل کے بعد سہمے ہوئے ہیں۔ وہ دو دن سے اپنی بیرک سے باہر بھی نہیں نکلے ہیں، حالانکہ جیل انتظامیہ نے ان کی حفاظت کو بڑھا دیا ہے۔

باندہ جیل کے جیلر وی ایس تریپاٹھی نے بتایا کہ باغپت جیل میں پیر کے روز اپنے معاون ڈان منا بجرنگی عرف پریم پرکاش سنگھ کے قتل سے یہاں کی جیل کی بیرک نمبر 15 اور 16 میں بند دبنگ بی ایس پی رکن اسمبلی اور پوروانچل کے مافیا ڈان مختار انصاری خوف زدہ ہیں۔ وہ دو دن سے اپنی بیرک سے باہر نہیں نکلے اور نہ ہی کسی سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے۔ انصاری نے دو دن سے ٹھیک سے کھانا بھی نہیں کھایا ہے۔ جیل انتظامیہ حالانکہ ان کی حفاظت میں کوئی خامی نہیں چھوڑنا چاہتی اور اس کے پیش نظر ان سی حفاظت کو تین سطحی بنایا گیا ہے۔

جیل کے مطابق سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے 24 گھنٹے قیدیوں پر سخت نظر رکھی جا رہی ہے۔ افسران خوف جاگ کر نظم و نسق کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ان کی بیرک میں کسی قیدی محافظ کو بھی جانے کی اجازت نہیں ہے اور جیل کی ہر بیرک میں دو دنوں سے سخت تلاشی مہم چلائی جا رہی ہے۔ قیدیوں یا بریکوں سے ابھی تک کوئی قابل اعتراض سامان برآمد نہیں ہوا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’’جیل کی بیرونی سکیورٹی بھی چاک و چوبند کی گئی ہے۔ جیل کے مین گیٹ پر پولس کے علاوہ پی اے سی جوان تعینات کئے گئے ہیں۔ دیگر قیدیوں سے ملاقات کے لئے آنے والوں پر بھی سخت نگاہ رکھی جا رہی ہے اور تلاشی لی جا رہی ہے۔‘‘

غور طلب ہے کہ پوروانچل کے مافیا ڈان اور بی ایس پی کے رکن اسمبلی مختار انصاری 30 مارچ 2017 سے باندہ جیل میں قید ہیں۔ یہاں انہیں دورہ قلب بھی پڑ چکا ہے، جس پر ان کے بھائی نے جیل انتظامہ پر علاج میں لاپروائی برتنے کا الزام عائد کیا تھا۔

سب سے زیادہ مقبول