راجستھان میں بلدیہ انتخابات سے دب گیا ضمنی انتخابات کا شور

ضمنی انتخابات کے اعلان کے ساتھ سیاست ان دونوں اسمبلی حلقوں پر ہی مرکوز تھی، لیکن بلدیاتی انتخابات کے اعلان کے بعد لیڈروں کی توجہ ہٹ گئی اور وہ بلدیہ انتخابات میں مصروف ہو گئے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

جے پور: راجستھان میں دو اسمبلی سیٹوں کے لیے 21 اکتوبر کو ہو رہے ضمنی انتخابات کا شور مقامی بلدیاتی انتخابات کی وجہ سے دب سا گیا ہے۔ ضمنی انتخابات کے اعلان کے ساتھ سیاست ان دونوں اسمبلی حلقوں پر ہی مرکوز تھی، لیکن بلدیاتی انتخابات کے اعلان کے بعد لیڈروں کی توجہ ہٹ گئی اور وہ بلدیہ انتخابات میں مصروف ہو گئے۔

ضلع جھنجھنو کے منڈاوا میں بی جے پی رکن اسمبلی نریندر كھيچڑ اور ضلع ناگور کے كھيوسر سے راشٹریہ لوک تانترک پارٹی کے ہنومان بینی وال کے رکن پارلیمنٹ منتخب ہونے کی وجہ سے کرائے جا رہے ان ضمنی انتخابات میں حکمراں کانگریس کے لیے تقریباً 11 ماہ کی مدت کار کسوٹی ہوگی جبکہ بی جے پی اور آر ایل پی کے سامنے ان حلقوں میں اپنا اثر برقرار رکھنے کا چیلنج ہوگا۔ كھيوسر سے بی جے پی نے سمجھوتے کے تحت آر ایل پی کے لئے یہ سیٹ چھوڑ دی جہاں ہنومان بینی وال کے بھائی نارائن بینی وال الیکشن لڑ رہے ہیں۔

کانگریس نے یہاں سے سابق وزیر هریندر مردھا کو انتخابی میدان میں اتارا ہے جو گزشتہ کافی عرصے سے انتخابی اعتبار سے پارٹی کے لئے سودمند نہیں رہے۔ کانگریس یہ سیٹ بی جے پی سے چھین کر اپنا اثر بڑھانے کی کوشش میں ہے۔ کانگریس ہر حال میں اس سیٹ پر جیت حاصل کرنا چاہتی ہے کیونکہ انتخابات میں کانگریس کی کراری شکست کے بعد پارٹی کی مقبولیت میں کوئی خاص اضافہ نہیں دکھائی دے رہا ہے، اس پر اسمبلی کے انتخابی وعدوں کو پورا کرنے کا دباؤ ہے ۔

قومی آواز اب ٹیلیگرام پر پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next