مُنڈکا آتشزدگی میں 27 افراد ہلاک، راحت اور بچاؤ اہلکار نے بیان کی خوفناک آنکھوں دیکھی

قومی راجدھانی دہلی کے مُنڈکا علاقہ میں تین منزلہ عمارت میں ہونے والی آتشزدگی کے بعد جو تصاویر منظر عام پر آئی ہیں انہوں نے پورے ملک کو دہلا دیا ہے

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: قومی راجدھانی دہلی کے مُنڈکا علاقہ میں تین منزلہ عمارت میں ہونے والی آتشزدگی کے بعد جو تصاویر منظر عام پر آئی ہیں انہوں نے پورے ملک کو دہلا دیا ہے۔ رات کے وقت لگنے والی آگ کی وجہ سے علاقہ میں چیخ و پکار کا عالم تھا اور روتے بلکتے لوگ اپنے عزیزوں کی تلاش کر رہے تھے۔

اطلاعات کے مطابق موقع پر راحت اور بچاؤ کا کام تاحال جاری ہے اور عمارت سے اب تک 27 لاشوں کو برآمد کر لیا گیا ہے۔ کئی لاشیں ایسی ہیں کہ ان کی شناخت کر پانا بھی مشکل ہو رہا ہے۔ کئی افراد لاپتہ بتائے جا رہے ہیں، جس کو تلاش کیا جا رہا ہے۔ دریں اثنا، راحت اور بچاؤ اہلکار نے 50 سے زیادہ افراد کو محفوظ نکال لیا ہے۔ اس معاملہ میں اب تک دو لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار شدگان اس فرم کے مالکان ہیں جہاں آگ لگی تھی۔


راحت اور بچاؤ کے کام میں مصروف این ڈی آر ایف (نیشنل ڈیزاسٹر ریلیف فورس) کے عملہ نے کو آنکھوں دیکھی بیان کی ہے وہ خوفناک ہے۔ این ڈی آر ایف کے اسسٹنٹ کمانڈنٹ وکاس سینی نے کہا، ’’ہماری ٹیم رات 11.30 کے قریب جائے وقوعہ پر پہنچی تھی۔ پہلے یہاں تلاشی مہم چلانے میں کافی دشواریوں کا سامنا تھا۔ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے لیکن دیواروں اور چھت سے جو پانی ٹپک رہا تھا وہ کافی گرم تھا اور لوگوں کو تلاش کرنا ممکن نہیں ہو پا رہا تھا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ عمارت کے تینوں فلور کی تلاشی مکمل کر لی گئی ہے اور دوسری منزل پر ایک طرف تلاشی جاری ہے۔ دوسری منزل پر لاشوں کے چھوٹے چھوٹے 7-8 حصے ملے ہیں۔ تقریباً 4-5 گھنٹے میں تلاشی کا کام پورا ہو جائیے گا۔

مہلوکین میں خواتین کی تعداد سب سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ دہلی سول ڈفینس کے سنیل کمار نے بتایا کہ ان کی اطلاع کے مطابق 28 افراد ابھی تک لاپتہ ہیں جن میں سے 5 مرد اور 23 خواتین شامل ہیں۔ ہم غائب لوگوں کی تفصیل حاصل کر رہے ہیں۔ لوگوں کو ہیلپ لائن نمبر فراہم کیا گیا ہے۔ کوئی بھی تفصیل آنے پر انہیں فوری طور پر مطلع کیا جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔