مکل رائے بی جے پی سے ہوئے ناراض، جلد کریں گے پریس کانفرنس

بنگال اسمبلی کے احاطے میں بی جے پی کے ممبران اسمبلی کی میٹنگ میں مکل رائے کا شرکت نہ کرنا اور پریس کانفرنس کرنے کا اعلان یہ ثابت کرتا ہے بی جے پی کے ساتھ سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے

مکل رائے، تصویر آئی اے این ایس
مکل رائے، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

کولکاتا: بی جے پی کے قومی نائب صدر مکل رائے سے متعلق ایک بار پھر افواہوں کا بازار گرم ہے کہ وہ بی جے پی سے اپنی راہیں الگ کرسکتے ہیں ۔ممبر اسمبلی کا حلف لینے کے بعد پارٹی کے دیگر ممبران اسمبلی سے ملاقات کرنے اور میٹنگ میں شرکت کرنے کے بجائے وہ باہر نکل گئے اور بعد میں میڈیا اہلکاروں سے کہا کہ وہ جلد ہی اپنے اگلے قدم سے متعلق آگاہ کریں گے۔

مکل رائے نے آج اسمبلی پہنچ کر پروٹیم اسپیکر سبرتو مکھرجی سے حلف لیا اور ایک دوسرے کو مبارک باد پیش کی۔ اس کے بعد وہ بی جے پی کے نومنتخب ممبران اسمبلی کی میٹنگ میں شرکت کرنے کے بجائے خاموشی سے باہر نکل گئے۔ میڈیا کے کچھ اہلکاروں نے انہیں گھیر لیا اور اس کی وجہ پوچھی تو انھوں نے صرف اتنا کہا کہ وہ پریس کانفرنس میں ہی اس پر کچھ بولیں گے۔

بنگال اسمبلی کے احاطے میں بی جے پی کے ممبران اسمبلی کی میٹنگ میں شرکت نہ کرنا اور پریس کانفرنس کرنے کا اعلان یہ ثابت کرتا ہے بی جے پی کے ساتھ سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ انتخابی مہم کے دوران وزیر اعلی ممتا بنرجی نے پارٹی رہنماؤں پر سخت تنقید کی تھی جنہوں نے ترنمول چھوڑ دیا تھا لیکن مکل کی تعریف کی تھی۔ممتا بنرجی نے کہا تھا کہ مکل رائے شوبھندو ادھیکاری سے کہیں زیادہ بہتر ہیں۔ کیونکہ انہوں نے مشکل اوقات میں دھوکہ نہیں دیا۔ اب جب مکل نے خود کو بی جے پی سے دور کرنا شروع کیا ہے اور سبرتو مکھرجی کے ساتھ خوشگوار موڈ میں بات چیت کی اور نیک تمنائوں کا تبادلہ کیا ہے تو یہ قیاس آرائی ایک بار پھر تیز ہوگئی ہے کہ مکل رائے ایک بار پھر ترنمول کانگریس میں واپس جاسکتے ہیں۔

مکل رائےایک زمانے ممتابنرجی کے قریبی تھی اور پارٹی میں ان کی دوسری پوزیشن تھی مگر ابھیشک بنرجی کی سرگرمیوں میں اضافہ کے بعد وہ پارٹی سے کنارہ ہوگئے اور 2017میں بی جے پی میں شامل ہوگئے ۔اس کے بعد 2018میں انہوں نے اپنی حکمت عملی سے بی جے پی کو پنچایت انتخابات میں شاندار کامیابی دلائی۔ان کی حکمت عملی کی وجہ سے ہی پنچایت انتخابات میں بی جے پی کو کامیابی ملی۔2019میں ان پر بی جے پی نے بڑی ذمہ داری عاید کی تھی اور انہوں نے محنت کرکے بی جے پی کو 18سیٹوں پر کامیابی دلانے میںا ہم رول ادا کیا ۔اسمبلی انتخابات میں انہیں سرگرم رول دینے کے بجائے کرشن نگر شمال سے امیدوار بنادیا گیا۔پارٹی میں وہ اہمیت نہیں دی گئی۔اب جب کہ بی جے پی اشارہ دے رہی ہے کہ شوبھندو ادھیکاری جنہوں نے نندی گرام میں ممتا بنرجی کو شکست دیا ہے کو اپوزیشن لیڈر بنائے گی تو ظاہر ہے کہ مکل رائے کی پوزیشن کمزور ہوگی ۔اس مرتبہ ان کے بیٹے کی شکست ہوئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 07 May 2021, 9:48 PM