مختار انصاری کی اہلیہ کا صدر کے نام مکتوب، یوپی لانے کے دوران انکاؤنٹر کا خدشہ!

سپریم کورٹ نے زورآور رکن اسمبلی مختار انصاری کو دو ہفتہ کے اندر پنجاب کی جیل سے یوپی منتقل کرنے کا حکم دیا ہے، مختار کی اہلیہ کو ڈر ہے کہ ٹرانسفر کے دوران ان کا قتل کیا جا سکتا ہے

مختار انصاری / آئی اے این ایس
مختار انصاری / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

لکھنؤ: مئو سے رکن اسمبلی اور زورآور لیڈر مختار انصاری کی اہلیہ نے بدھ کے روز صدر رام ناتھ کووند کے نام ایک مکتوب پیش کیا ہے، جس میں انہوں نے اپنے شوہر کو پنجاب سے یوپی لانے کے دوران پختہ حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانے کی گہار لگائی ہے۔سپریم کورٹ نے گزشتہ جمعہ کے روز مختار کو دو ہفتہ کے اندر یوپی کی جیل منتقل کرنے کا حکم سنایا تھا۔

زورآور لیڈر مختار انصاری کی اہلیہ افشاں انصاری نے صدر کے نام مکتوب میں لکھا کہ ان کے شوہر فی الحال پنجاب کی روپڑ جیل میں قید ہیں۔ سپریم کورٹ نے 26 مارچ کو اپنے فیصلے میں انہیں دو ہفتوں کے اندر یوپی کی جیل منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔


مکتوب میں افشاں نے مزید کہا کہ ان کے شوہر ایک معاملہ کے عینی شاہد ہیں، جس میں بی جے پی کے قانون ساز کونسل کے رکن برجیش سنگھ اور تری بھون ملزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ دونوں ملزمان سرکاری نظام کی مبینہ ساز باز کے ذریعے مختار انصاری کو جان سے مارنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ لہذا اس بات کا خطرہ لاحق ہے کہ پنجاب کی جیل سے یوپی منتقل کرنے کے دوران راستہ میں فرضی مڈبھیڑ کی آڑ میں مختار انصاری کو قتل کیا جا سکتا ہے۔‘‘

خیال رہے کہ گزشتہ سپریم کورٹ نے حکومت کے پنجاب کے دلائل کو خارج کرتے ہوئے یوپی حکومت کی عرضی پر مختار انصاری کو پنجاب کی روپڑ جیل سے یوپی کی جیل میں دو ہفتے کے اندر منتقل کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔ مختار انصاری کو گزشتہ سال جنوری میں باندہ جیل سے روپڑ جیل میں منتقل کیا گیا تھا۔ روپڑ میں ایک کاوباری کو دھمکی دینے کے معاملہ میں مختار کو وارنٹ پر پیش کیا گیا تھا۔


حکومت پنجاب نے خراب صحت اور سکیورٹی کا حوالہ دیتے ہوئے مختار انصاری کو یوپی منتقل کرنے سے انکار کر دیا، اس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ پہنچا تھا۔ مختار انصاری پر بی جے پی کے رکن اسمبلی کرشنا نند رائے کے قتل سمیت دو درجن سے زیادہ معاملوں میں یوپی کی مختلف عدالتوں میں مقدمات زیر التوا ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔