کورونا وبا کے پیش نظر مکیش امبانی نے اٹھایا بڑا قدم، 21-2020 میں تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ

ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ کی 20-2019 کی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مکیش امبانی نے 21-2020 مالی سال کے دوران کورونا وبا کے سبب تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

ممبئی: ایشیا کے سب سے دولت مند شخص اور ریلائنس انڈسٹری لمیٹیڈ (آر آئی ایل) کے مالک مکیش امبانی نے عالمی وبا کووڈ۔ 19 کے سبب رواں مالی برس میں کمپنی سے اپنی تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ آر آئی ایل کی 20۔2019 کی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مکیش امبانی نے 21۔2020 مالی سال کے دوران کورونا وبا کے سبب تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

مکیش امبانی نے آر آئی ایل کے حال کے ہدف سے 9 مہینے پہلے پوری طرح قرض سے آزاد ہونے کا اعلان کیا تھا۔ کمپنیکی منگل کو جاری 20۔2019 کی رپورٹ کے مطابق مکیش امبانی کا اپنی اہم کمپنی ریلائنس انڈسٹری کے سالانہ تنخواہ 12 سالوں کے برابر 15 کروڑ روپے ہی رہی۔ مکیش امبانی کی 09۔2008 میں تنخواہ، الاؤنس اور کمیشن سبھی ملاکر سالانہ 15 کروڑ تھی اور تب سے مسلسل وہ اتنی ہی تنخواہ لے رہے ہیں اگرچہ کمپنی کے سبھی فل ٹائم ڈائرکٹروں کی تنخواہ اور الاؤنس وغیرہ میں گزشتہ مالی سال کے دوران خاصہ اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کووڈ۔ 19 کی وجہ سے مکیش امبانی نے اس برس اپریل کے آخر میں ہی اپنی تنخواہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ کووڈ۔ 19 کے سبب لاک ڈاؤن کو دیکھتے ہوئے اسی دوران کمپنی کے زیادہ تر ملازمین کی تنخواہ میں دس فیصد سے نصف تنخواہ تک کی کمی کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا۔ کمپنی کے مطابق دیگر ایگزیکٹو ڈائریکٹروں نے بھی اپنی تنخواہ 50 فیصد تک کم لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اختتام سال میں مکیش امبانی کو ملی کل تنخواہ میں 4.36 کروڑ تنخواہ اور الاؤنس کی مد میں تھی، جو پہلے کے مالی برس میں 4.45 کروڑ روپے سے کم تھی۔ مکیش امبانی کو 20۔2019 میں کمیشن سے ملنے والی رقم پہلے کے برابر 9.23 کروڑ روپے ہی رہی، جبکہ دوسرے فوائد 31 لاکھ سے بڑھ کر 40 لاکھ روپے ہوگئے۔ مکیش امبانی کو مالی سال میں ریٹائرمنٹ فوائد کے طور پر 71 لاکھ روپے ملے ہیں۔ پیر کو ہی ریلائنس انڈسٹری کو مارکٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے ملک کی پہلی 150 ڈالر کی کمپنی ہونے کا فخر حاصل ہوا ہے۔

مکیش امبانی کی ریلائنس انڈسٹری بہت جلد دنیا کی ٹاپ 50 کمپنیوں کی فہرست میں بھی شامل ہوسکتی ہے۔ فی الحال دنیا میں ریلائنس ابھی 58 ویں مقام پر ہے۔ کمپنی کا مارکٹ کیپٹلائزیشن 151 ارب ڈالر ہے۔ وہ اس معاملے میں یونی لیور، چائنا موبائل اور میک ڈونالڈ جیسے کمپنیوں سے اوپر ہے۔ یونی لیور ماکریٹ کیپٹلائزیشن 146 ارب ڈالر ہے اور وہ دنیا میں 60 ویں مقام پر ہے جبکہ چائنا موبائل 143 ارب ڈالر کے ساتھ 61 ویں اور میک ڈونالڈ 141 ارب ڈالر کے ساتھ 62 ویں مقام پر ہے۔

مکیش امبانی حال ہی میں دنیا کے سب سے امیر 10 لوگوں کی فہرست میں شال ہوئے تھے۔ ان کی کل جائیداد 64015 ارب ڈالر ہے۔ کچھ ماہ قبل کمپنی کے شیئروں میں آئی گراوٹ سے مکیش امبانی سے ایشیا کے سب سے امیر شخص کا مقام چھن گیا تھا اور علی بابا کے جیک ما ان سے آگے نکل گئے تھے۔ ریلائنس کے شیئروں کے دام اس برس 23 مارچ کے مقابلے دوگنے ہوچکے ہیں۔ ریلائنس کا مارکیٹ کیپٹلائزیشن محض 40 ماہ میں چار لاکھ کروڑ روپے 11 لاکھ کروڑ روپے کے اوپر پہنچ گیا ہے اور وہ ملک کی یہ فخر حاصل کرنے والی پہلی کمپنی ہے۔ ریلائنس کا شیئر فی الحال ریکارڈ بلندی پر ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔