قومی

ایم ٹی این ایل ملازمین مودی حکومت پر سخت برہم، بی جے پی کو ووٹ نہ دینے کا عہد

ٹیلی کام ایگزیکٹیو ایسو سی ایشن آف ایم ٹی این ایل (دہلی-ممبئی) کے جنرل سکریٹری کوشک کہتے ہیں کہ ’’ملازمین اب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ بی جے پی دوبارہ برسراقتدار ہوئی تو مستقبل خراب ہو جائے گا۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا

دھیریا ماہیشوری

اے کے کوشک زندگی بھر ٹیلی مواصلات محکمہ (ڈاٹ) کے ملازم رہے۔ پہلے وہ ڈاٹ میں رہے اور اس کے بعد 1999 سے 2013 میں ریٹائر ہونے تک وہ مہانگر ٹیلی فون نگم لمیٹڈ (ایم ٹی این ایل) میں کام کرتے رہے۔ اب وہ ٹیلی کام ایگزیکٹیو ایسو سی ایشن آف ایم ٹی این ایل (دہلی-ممبئی) کے جنرل سکریٹری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس 1986 میں قائم سرکاری کمپنی کی حالت اس قدر خرب کبھی نہیں رہی جتنی کہ موجودہ وقت میں ہے۔ کوشک کا کہنا ہے کہ ’’ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ ملازمین کو وقت پر تنخواہ نہیں ملی ہے۔ ملازمین بے حد مایوس اور پریشان ہیں۔ ابھی تک یہ طے نہیں ہے کہ ملازمین کو اگلے مہینے تنخواہ ملے گی یا نہیں۔‘‘ ایم ٹی این ایل نے جمعرات کو ہی ایم ٹی این ایل کے 23 ہزار ملازمین کو فروری ماہ کی تنخواہ دی ہے۔

کوشک بتاتے ہیں کہ تنخواہ تو مل گئی لیکن ملازمین کے جی پی ایف کا 158 کروڑ روپیہ ابھی بقایہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکار نے جتنا پیسہ دیا ہے اس سے صرف فروری ماہ کی تنخواہ ہی مل سکتی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’صرف فروری ماہ کی تنخواہ کا خرچ ہی تقریباً 200 کروڑ روپے ہے۔‘‘ ایم ٹی این ایل کے باقی ملازمین کی بھی یہی رائے ہے جو کہ کوشک کو اپنا ہمدرد تصور کرتے ہیں۔ دہلی واقع قدوائی بھون میں ’نیشنل ہیرالڈ‘ سے بات چیت میں ملازمین نے موجودہ حالات کو لے کر ناراضگی بھی ظاہر کی۔

ملازمین اب اپنے غصے کا سیاسی اظہار کرنا چاہتے ہیں۔ بات چیت کے دوران موجود ایک ملازم نے کہا کہ ’’نیتی آیوگ کی سفارش پر وزیر اعظم ایم ٹی این ایل اور بی ایس این ایل دونوں ختم کرنا چاہتے ہیں۔ تنخواہ دینے میں تاخیر کرنا ایک سوچی سمجھی پالیسی کا حصہ ہے تاکہ ملازمین خود ہی کام چھوڑ کر چلے جائیں۔‘‘

ایک افسر کا کہنا ہے کہ ’’1986 سے 2009 تک ایم ٹی این ایل نے تقریباً 45000 کروڑ کا منافع کمایا۔ اب کہا جا رہا ہے کہ ہم ایک خسارے والی کمپنی ہیں۔ لیکن ہم کیسے منافع کمائیں جب کہ ایم ٹی این ایل سے کہیں زیادہ قرض میں ڈوبے نجی آپریٹروں کو سرکار ایم ٹی این ایل کی قیمت پر فروغ دے رہی ہے۔‘‘ انھوں نے بتایا کہ ’’ایم ٹی این ایل پر سرکار کا 20 ہزار کروڑ بقایہ ہے جب کہ ائیر ٹیل پر 70 ہزار کروڑ سے زیادہ اور ووڈافون پر 1.20 لاکھ کروڑ کا قرض ہے۔ جیو پر بھی موٹا قرض ہے۔ ایسے میں صرف ایم ٹی این ایل کو ہی کیوں پریشان کیا جا رہا ہے۔‘‘

ملازمین نے اپنا نام نہ بتانے کی شرط ’نیشنل ہیرالڈ‘ کے سامنے رکھی اور کئی باتیں بتائیں۔ انھوں نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ انھیں اپنے اوپر برسراقتدار پارٹی کے خلاف بولنے پر محکمہ جاتی کارروائی کا خطرہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قبل میں بھی ایسا ہو چکا ہے۔

دراصل اے کے کوشک نے بھی جب سرکاری پالیسیوں کی مخالفت کی تھی تو ان کا تبادلہ بھی سرحدی علاقے پنجاب کے فیروز پور کر دیا گیا تھا۔ ریٹائر ہونے کے بعد سے وہ لگاتار ایم ٹی این ایل ملازمین کے ایشوز پر کافی کھل کر بولتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’جب ہم سرکاری پالیسیوں کی مخالفت کرتے تھے تو پچھلی حکومتیں کم از کم بات تو سنتی تھیں، لیکن اس حکومت میں ایسا ناممکن ہے۔‘‘

Published: 15 Mar 2019, 11:09 AM