رکن پارلیمنٹ پپو یادو کی اچانک بگڑی طبیعت، پٹنہ کےآئی جی آئی ایم ایس سے پی ایم سی ایچ منتقل
پپو یادو کو حال ہی میں گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد انہیں ابتدائی طبی معائنے کے لیے اسپتال لایا گیا تھا۔ اس حوالے سے حامیوں اور اہل خانہ میں تشویش پائی جارہی ہے اور وہ بہتر علاج کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

بہار کے پورنیہ سے آزاد رکن پارلیمنٹ پپو یادو کی طبیعت اچانک خراب ہونے کے بعد انہیں پٹنہ کے آئی جی آئی ایم ایس اسپتال سے پی ایم سی ایچ منتقل کیا گیا ہے۔ ڈاکٹروں کی گہری نگہداشت میں ان کا علاج جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کی بگڑتی ہوئی صحت کی وجہ سے انہیں بہتر علاج کے لیے ڈاکٹروں کے مشورے پر دوسرے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ فی الحال ڈاکٹروں کی ٹیم مسلسل ان کی حالت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
یہ بھی پڑھیں : کئی گھنٹوں کے ہنگامہ کے بعد رکن پارلیمنٹ پپو یادو گرفتار
اطلاعات کے مطابق پپو یادو کو حال ہی میں 1995 کے ایک پرانے کیس کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے بعد انہیں ابتدائی طبی معائنے کے لیے آئی جی آئی ایم ایس اسپتال لایا گیا تھا جہاں ان کا علاج چل رہا تھا لیکن جب حالت زیادہ بگڑ نے لگی تو انہیں پی ایم سی ایچ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسپتال کی منتقلی کے حوالے سے ان کے حامیوں اور اہل خانہ میں تشویش پائی جارہی ہے اور وہ بہتر علاج کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ 1995 میں ونود بہاری لال نامی شخص نے پٹنہ کے گاردنی باغ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی تھی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ پپو یادو اور ان کے ساتھیوں نے دھوکہ دہی سے اس کا مکان کرائے پر لیا اور بعد میں اس مکان کااستعمال ممبر پارلیمنٹ کے دفتر کے طور پر استعمال کیا گیا۔ الزام ہے کہ کرایئے پر لینے کے عمل کے دوران اس بات کو چھپایا گیا تھا۔
حال ہی میں پٹنہ کے ایم پی-ایم ایل اے کورٹ نے اس معاملے میں پپو یادو اور 3 دیگر کے خلاف قرقی، ضبطی کا حکم جاری کیا تھا۔ یہ حکم لمبے وقت تک عدالت میں پیش نہیں ہونے کی وجہ سے جاری کیا گیا تھا۔ اس سے قبل کورٹ وارنٹ گرفتاری اور اشتہار بھی جاری کرچکی تھی۔ اب گرفتاری اور بگڑتی ہوئی طبیعت کے درمیان پپو یادو کا علاج چل رہا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔