ایم پی حکومت نے پنچایت انتخابات معاملے میں آرڈیننس واپس لیا، کمل ناتھ نے کہا کہ اب پسماندہ طبقات کو ملے گا انصاف

سابق وزیراعلیٰ کمل ناتھ نے کہا کہ اپوزیشن نے اس حوالے سے سڑک سے لے کر ایوان تک اپنی بات رکھی، حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کی اور آخرکار سچ کی جیت ہوئی۔

کمل ناتھ، تصویر یو این آئی
کمل ناتھ، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

بھوپال: مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلی اور کانگریس کے ریاستی صدر کمل ناتھ نے ریاستی حکومت کی طرف سے پنچایت انتخابات کے سلسلے میں گزشتہ دنوں متعارف کرائے گئے آرڈیننس کو واپس لینے کے فیصلے کے بعد کہا کہ کانگریس کا پہلے دن سے یہی مطالبہ تھا اور امید ہے کہ اب دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے ساتھ انصاف ہوگا۔

حکومت کے اس فیصلے کو ’دیر آید درست آید‘ قرار دیتے ہوئے کمل ناتھ نے کہا کہ کانگریس پہلے دن سے کہہ رہی تھی کہ حکومت مدھیہ پردیش میں پنچایتی انتخابات غیر آئینی طریقے سے کرا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پہلے دن سے ہی مطالبہ کر رہی تھی کہ حکومت پنچایت الیکشن ایکٹ کے تحت جاری کردہ آرڈیننس کو فوری واپس لے۔


کمل ناتھ نے کہا کہ اگر حکومت پہلے دن سے یہ فیصلہ کر لیتی تو نہ تو یہ صورتحال پیدا ہوتی اور نہ ہی او بی سی کے حقوق چھینے جاتے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کا مطالبہ تھا کہ پنچایتی انتخابات آئینی طریقوں اور پنچایتی راج ایکٹ کے مطابق کروائے جائیں، جس میں او بی سی طبقے کو اس کا حق ملنا چاہیے، روٹیشن کی پیروی کی جانی چاہیے، حد بندی کی جانی چاہیے، لیکن ریاستی حکومت ضدی رویہ اپنائے ہوئے ہے۔

سابق وزیراعلیٰ کمل ناتھ نے کہا کہ اپوزیشن نے اس حوالے سے سڑک سے لے کر ایوان تک اپنی بات رکھی، حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کی اور آخرکار سچ کی جیت ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ سچائی کو پریشان کیا جا سکتا ہے لیکن شکست نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اب امید ہے کہ او بی سی زمرہ کے ساتھ انصاف ہوگا اور انہیں ان کا حق ملے گا۔


ریاستی حکومت نے پنچایتی انتخابات کے انعقاد کے سلسلے میں حال ہی میں متعارف کرائے گئے آرڈیننس کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں گورنر کو ایک تجویز بھیجی ہے۔ اس کے بعد راج بھون اور پھر ریاستی الیکشن کمیشن کو کارروائی کرنی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔