کمل ناتھ نے سرکاری ’حمیدیہ اسپتال‘ میں کرایا علاج، مخالفین نے بھی کی تعریف

مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ کمل ناتھ نے ہفتہ کے روز سرکاری حمیدیہ اسپتال میں اپنا علاج کرایا، آپریشن کامیاب رہا، جس پر سابق وزیر اعلیٰ شیوراج نے بھی ان کی تعریف کی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

عموماً امیر گھرانوں کے لوگ اور سیاسی رہنما سرکاری اسپتالوں میں علاج کرانے سے کتراتے ہیں لیکن مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے ہفتہ کے روز اپنی انگلی کا آپریشن راجدھانی بھوپال میں واقعہ سرکاری اسپتال میں کراکر ایک منفرد مثال پیش کی ہے۔

وزیر اعلیٰ کمل ناتھ نے حمیدیہ اسپتال میں اپنی انگلی کا آپریشن کرایا جو کامیاب رہا۔ دفتر وزیر اعلیٰ سے جاری بیان کے مطابق کمل ناتھ کو دائیں ہاتھ کی انگلی میں جمود اور درد کی شکایت تھی۔ تکلیف کی وجہ سے وہ جمعہ کے روز ’یوم یوگا‘ کی تقریب میں شرکت کرنے سے بھی قاصر رہے تھے۔ جمعہ کو انہوں نے جب حمیدیہ اسپتال میں اپنا طبی معائنہ کرایا تو ڈاکٹروں نے انہیں آپریشن کی صلاح دی۔

گاندھی میڈکل کالج کی ڈین ڈاکٹر ارونا کمار نے میڈیا کو بتایا، ’’وزیر اعلیٰ ہفتہ کی صبح نو بجے حمیدیہ کے نیو او پی ڈی بلاک کی چوتھی منزل پر واقع آپریشن تھیئٹر پہنچے، جہاں ضروری رسومات مکمل کرنے کے بعد ان کی انگلی کا آپریشن کیا گیا۔ ‘‘ غور طلب ہے کہ حمیدیہ اسپتال گاندھی میڈیکل کالج کے زیر اہتمام آتا ہے۔

ڈاکٹر ارونا کمار نے کہا، ’’حمیدیہ اسپتال کے محکمہ ہڈی کے سربراہ ڈاکٹر سنجیو گور اور محکمہ انیستھیسیا کے سربراہ ڈاکٹر آدتیہ اگروال کی ٹیم نے وزیر اعلیٰ کمل ناتھ کا کامیاب آپریشن کیا۔‘‘ ڈاکٹر کمار نے کہا کہ دو گھنٹے بعد وزیر اعلیٰ کا دوبارہ طبی معائنہ کیا جائے گا اور شام کو ان کو چھٹی دے دی جائے گی۔

وزیر اعلیٰ کمل ناتھ کے آپریشن کے دوران وزیر صحت ڈاکٹر وجے لکشمی سادھو صبح سے ہی ان کے ساتھ تھیں۔ مدھیہ پردیش اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر حنا کاورے اور سابق مرکزی وزیر سریش پچوری بھی اسی اثنا میں اسپتال میں موجود رہے۔

کمل ناتھ کے جلد صحت یاب ہونے کی خواہش کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان نے ٹیوئٹ کیا، ’’کمل ناتھ جی ہمیشہ صحت مند رہیں، انہیں میری نیک خواہشات۔ وزیر اعلیٰ صاحب! حمیدیہ میں اپنا علاج کرانے کا آپ کا فیصلہ قابل ستائش ہے۔ ساتھ ہی میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ جو سہولیات وہاں آپ کو حاصل ہوئیں، وہی عام لوگوں کو بھی حاصل ہوں اور انہیں در در بھٹکنا نہ پڑے۔‘‘

Published: 22 Jun 2019, 6:10 PM